Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6197

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: إِنَّ أَشْبَهَ النَّاسِ دَلًّا وَسَمْتًا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهٖ إِلٰى أَنْ يَّرْجِعَ إِلَيْهِ لَا تَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِیْ أَهْلِهِ إِذَا خَلَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن حذيفة قال: إن أشبه الناس دلا وسمتا وهديا برسول الله صلى الله عليه وسلم لابن أم عبد من حين يخرج من بيته إلى أن يرجع إليه لا تدري ما يصنع فی أهله إذا خلا. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے تمام لوگوں میں حضور سے زیادہ مشابہہ طریقہ میں سیرت میں اور ہدایت میں ام عبد کے بیٹے ہی ہیں ۱∞؎جب سے وہ اپنے گھر سے نکلتے ہیں وہاں لوٹنے تک ہم کو یہ خبر نہیں کہ وہ اپنے گھر میں جب اکیلے ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ابن ام عبدحضرت عبدالله ابن مسعود کی کنیت ہے،آپ کی ماں کی کنیت ام عبد ہے،کبھی کسی کو ماں کی طرف بھی نسبت کر دیتے ہیں جیسے عبدالله ابن ام مکتوم۔
۲
؎یعنی حضرت عبدالله ابن مسعود جب تک باہر ہوں اور ہم ان کو دیکھتے ہیں تب تک تو ان کی ہر ادا حضور صلی الله علیہ و سلم کے مشابہہ ہوتی ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ اندرون خانہ ان کے حالات کیسے ہوتے ہیں یہ بدگمانی نہیں بلکہ تعریف میں احتیاط ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6197