Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6241

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَوِ اسْتَخْلَفْتَ؟ قَالَ: «إِنِ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْكُمْ فَعَصَيْتُمُوهُ عُذِّبْتُمْ وَلٰكِنْ مَا حَدَّثَكُمْ حُذَيْفَةُ فَصَدِّقُوهُ وَمَا أَقْرَأَكُمْ عَبْدُ اللَّهِ فَاقْرَؤُوهْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن حذيفة قال: قالوا: يا رسول الله لو استخلفت؟ قال: «إن استخلفت عليكم فعصيتموه عذبتم ولكن ما حدثكم حذيفة فصدقوه وما أقرأكم عبد الله فاقرؤوه» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کسی کو خلیفہ بنادیتے ۱∞؎فرمایا اگر میں تم پر خلیفہ مقرر کردوں پھر تم اس کی نافرمانی کرو تو عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۲؎لیکن جو تم کو حذیفہ خبر دیں اس کو سچ مانو۳؎اور جو تم کو عبداللہ پڑھائیں تم پڑھو۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎پہلے تو حضرات صحابہ نے انتظار کیا کہ حضور انور خود ہی کسی کو اپنا خلیفہ بنادیں مگر جب حضور انور نے یہ نہ کیا تو خود زبانی عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کسی کو اپنا خلیفہ نامزد فرمادیں۔
۲
؎اس ارشاد عالی کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ تم میرے نامزد خلیفہ کی میرے بعد نافرمانی کرو تو تم پر دنیا میں عذاب آجاوے گا،دوسرے یہ کہ تم میرے نامزد کرنے کی مخالفت کرو تو تم پر عذاب آجاوے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور انور نے خلیفہ مقرر نہ کیا ورنہ امیر معاویہ اور ان کے ساتھیوں یوں ہی حضرت عائشہ صدیقہ اور ان کے ہمراہیوں پر دنیا میں عذاب آجاتا کہ یہ حضرات ان کے مخالف رہے۔اس سے پر لطف بات یہ معلوم ہوئی کہ لوگوں نے خدا تعالٰی کے نامزد کردہ نبی یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت کی ان پر دنیا میں عذاب نہ آیا لیکن اگر حضور کے نامزد کردہ خلیفہ کی مخالفت کرتے تو عذاب آجاتا،حضور کا انتخاب فرمانا حضور کی نامزدگی بہت اہم ہے۔
ادب گاہے است زیر آسمان از عرش نازک تر نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
صوفیاء فرماتے ہیں۔ مصرع باخدا دیوانہ و با مصطفی ہشیار باش
بعض مجذوبوں نے جوش میں
انا اللهکہہ دیا مگرانا محمدکہنے کی جرأت کسی میں نہ ہوئی۔
۳
؎یعنی میرے بعد جو بات حضرت حذیفہ کہیں اسے سچ ماننا،جسے وہ خلیفہ کہیں وہ خلیفہ برحق ہے اس لیے حضور انور نے خلافت کے مطالبہ پر یہ ارشاد فرمایا اور ظاہر ہے حضرت حذیفہ نے جناب صدیق و فاروق کی خلافت کا اقرر کیا لہذا وہ خلیفہ برحق ہیں،حضرت حذیفہ حضور انور کے صاحب راز صحابی ہیں،حضور کے دل کی باتوں دلی ارادوں پر مطلع ہیں،آپ جانتے ہیں کہ حضور کے ارادہ قلبی میں کون کون حضرات کب کب خلیفہ ہوئے ہیں۔
۴
؎یعنی حضرت ابن مسعود تلاوت قرآن میرے فرمانوں کے متعلق جو تم کو ہدایت کریں اسے مان لینا۔حضرت حذیفہ دنیاوی فتنوں سے لوگوں کو ڈرانے والے تھے اور حضرت ابن مسعود اخروی فتنوں سے لوگوں کو ڈرانے والے،ان دونوں نے خلفاء راشدین کی خلافت دل سے قبول کی اور مانی۔چنانچہ حضرت ابن مسعود جناب صدیق اکبر کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ حضور انور نے انہیں ہمارے دین کا امام بنادیا تو ہم انہیں اپنی دنیا کا امام کیوں نہ بنائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6241