Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6205

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللّٰهِ تَعَالٰى فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللّٰهِ فَمِنَّا مَنْ مَضٰى لَمْ يَأْكُلْ مَنْ أَجْرِهٖ شَيْئًا مِنْهُمْ: مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ يُوجَدْ لَهٗ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةٌ فَكُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهٗ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسَهٗ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غُطُّوا بهَا رَأسَهٗ وَاجْعَلُوا عَلٰى رِجْلَيْهِ الْإِذْخِرِ . وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهٗ ثَمَرَتُهٗ فَهُوَ يَهْدِبُهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن خباب بن الأرت قال: هاجرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نبتغي وجه الله تعالى فوقع أجرنا على الله فمنا من مضى لم يأكل من أجره شيئا منهم: مصعب بن عمير قتل يوم أحد فلم يوجد له ما يكفن فيه إلا نمرة فكنا إذا غطينا بها رأسه خرجت رجلاه وإذا غطينا رجليه خرج رأسه فقال النبي صلى الله عليه وسلم: غطوا بها رأسه واجعلوا على رجليه الإذخر . ومنا من أينعت له ثمرته فهو يهدبها. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے خباب ابن ارت سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ ہجرت کی الله کی رضا تلاش کرتے تھے تو ہمارا ثواب الله پر ہوگیا ۱∞؎ہم میں سے بعض وہ تھے جو چلے گئے اپنا ثواب کچھ نہ چکھا۲؎ان میں سے جناب مصعب ابن عمیر ہیں ۳؎جو احد کے دن شہید ہوئے تو ان کے لیے اتنا کپڑا نہ ملا جس میں انہیں کفن دیا جاوے سواء ایک چادر کے کہ ہم جب ان کے سر ڈھکتے تو ان کے پاؤں نکل جاتے اور جب ان کے پاؤں ڈھکتے تو ان کا سر نکل جاتا نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۴؎بعض ہم میں وہ ہیں جن کے پھل پک گئے تو وہ انہیں چن رہا ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بفضلہ تعالٰی ہماری ہجرت قبول ہوئی کیونکہ خالص الله کے لیے ہماری ہجرت تھی اخلاص کے لیے اجرو ثواب لازم ہے۔
۲
؎یہاں اجر سے مراد دنیاوی نفع ہے جو مؤمن کے لیے ثواب عاجل یعنی نقد معاوضہ ہوتا ہے یعنی بعض مہاجرین وہ ہیں جنہوں نے فتوحات غنیمتیں وغیرہ کچھ نہ دیکھیں اور شہید ہوگئے۔
۳
؎حضرت معصب ابن عمیر قرشی عبدری ہیں،جلیل القدر صحابی ہیں،اسلام سے پہلے بڑے نازونعم میں پرورش پاتے رہے،حضور صلی الله علیہ و سلم نے عقبہ اولٰی کی بیعت کے بعد انہیں مدینہ منورہ تبلیغ کے لیے بھیج دیا تھا آپ لوگوں کے گھروں میں جاکر تبلیغ کرتے ہر دورہ میں ایک دو مسلمان کرلیتے تھے حتی کہ وہاں ایک جماعت مؤمن ہوگئی پھر حضور انور صلی الله علیہ و سلم کی اجازت سے آپ نے مدینہ منورہ میں جمعہ شروع کیا پھر اگلے سال ستر اہل مدینہ کو لے کر حج میں آئے اور دوسری بیعۃ عقبہ میں شریک ہوئے(مرقات)آپ کی شہادت غزوہ احد میں ہوئی۔
۴
؎کفن تین طرح کا ہوتا ہے: کفن سنت،کفن کفایت،کفن ضرورت۔حضرت مصعب ابن عمیر کو بعد شہادت کفن ضرروت بھی پورا نہ ملا یعنی ایک کپڑا جسم کا کچھ حصہ کپڑے سے ڈھانپا گیاکچھ حصہ گھاس سے،ایک بار حضرت مصعب حضور انور صلی الله علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر تھے نہایت ہی معمولی لبا س میں بیٹھے تھے جس میں چمڑے کے پیوند تھے،حضور انور صلی الله علیہ و سلم رو پڑے اور فرمایا دیکھو یہ کس نازونعم میں پلے اور اب اسلام کی خاطر کس حالت میں ہیں۔(مرقات)
۵
؎یعنی ہم مہاجرین میں سے بعض وہ حضرات ہیں جنہوں نے اسلامی فتوحات دیکھیں،مال غنیمت حاصل کیے،آرام پایا۔ خیال رہے کہ ان فتوحات کے دیکھنے غنیمت پانے سے ان حضرات کا اُخروی ثواب کم نہیں ہوگیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6205