Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6204

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ قِيلَ لِأَنَسٍ: مَنْ أَبُو زَيْدٍ؟ قَالَ: أَحَدُ عُمُومَتِيْ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: جمع القرآن على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعة: أبي بن كعب ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت وأبو زيد قيل لأنس: من أبو زيد؟ قال: أحد عمومتي. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں چار صاحبوں نے قرآن جمع کیا ۱∞؎ابی ابن کعب،معاذ ابن جبل،زید ابن ثابت اور ابو زید،انس سے کہا گیا کہ ابو زید کون ہے فرمایا میرے ایک چچا ہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں جمع قرآن سے مراد حفظ قرآن ہے یعنی حضور انور کے زمانہ حیات شریف میں ان چار صاحبوں نے پورا قرآن مجید حفظ کرلیا تھا یہ حافظین قرآن تھے کیونکہ قرآن کو کتابی شکل میں خلافت عثمانی میں جمع کیا گیا۔خیال رہے کہ یہاں انصاری خزرجی حفاظ مراد ہیں یعنی اس قبیلہ کے چار صاحبوں نے قرآن حفظ کیا ورنہ بہت مہاجرین نے بھی حفظ کیا تھا۔
۲
؎ابو زید کا نام سعید ابن عمیر یاقیس ابن سکن ہے،انہوں نے حضور صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں قرآن مجید حفظ کیا۔ خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں ہی اتنے صحابہ نے قرآن مجید حفظ کرلیا تھا جس سے قرآن کا تواتر قائم رہے۔ چنانچہ جنگ یمامہ جو حضور صلی الله علیہ و سلم کے وصال سے بہت ہی قریب ہوئی یعنی شروع خلافت صدیق میں اس میں ستر صحابہ حافظ شہید ہوئے،جو حفاظ صحابہ زندہ رہے اور جو اس جنگ میں شریک ہی نہ ہوئے وہ ان کے علاوہ ہیں۔چنانچہ حضرات خلفاء راشدین حافظ تھے اور اگر اس زمانہ پاک میں زیادہ حافظ نہ بھی ہوں تب بھی تواتر قرآن میں فرق نہیں آتا کہ آیات قرآنیہ کے حفاظ سارے صحابہ ہی تھے۔حضرات انس کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے خزرج قبیلہ کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس میں چار حافظ قرآن ہیں۔
لطیفہ:ایک بار انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج میں مناظرہ ہوا اوس نے کہا کہ ہمارا قبیلہ افضل ہے کیونکہ غسیل ملائکہ حضرت حنظلہ امین کاتب اور جن کی لاش کی حفاظت شہد کی مکھیوں نے کی یعنی عاصم ابن ثابت اور جن کی موت پر عرش الٰہی ہل گیا یعنی سعد ابن معاذ ہم ہی ہیں تو خزرج بولے کہ جناب چار حافظ قرآن ہمارے قبیلہ میں ہیں: زید ابن ثابت،ابو زید،معاذ بن جبل اور ابی ابن کعب۔(مرقات)بہرحال خدا کے فضل سے ہر زمانہ میں ہزارہا حافظ رہے اور موجود ہیں لہذا تواتر قرآن باقی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6204