Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6260

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ بِلَالًا قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلّٰهِ فَدَعْنِي وَعَمَلَ اللهِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن قيس بن أبي حازم أن بلالا قال لأبي بكر: إن كنت إنما اشتريتني لنفسك فأمسكني وإن كنت إنما اشتريتني لله فدعني وعمل الله. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قیس ابن ابی حازم سے ۱ ∞؎کہ جناب بلال نے حضرت ابوبکر سے عرض کیا کہ اگر آپ نے مجھے اپنی ذات کے لیے خریدا ہے تو مجھے رکھیے اور اگر آپ نے مجھے الله کے لیے خریدا ہے تو مجھے الله کے عمل کے لیے چھوڑ دیجئے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ قبیلہ بنی احمس سے ہیں،اسلام لانے مدینہ منورہ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے تھے،کوفہ کے تابعین میں سے ہیں،عشرہ مبشرہ میں سے آپ نے نو صحابہ سے روایت کی یعنی سواء عبدالرحمن ابن عوف کے یہ آپ کی خصوصیت ہے،غزوہ نہروان میں حضرت علی کے ساتھ تھے،سو برس سے زیادہ عمر ہوئی،۹۸ اٹھانوے میں وفات ہوئی۔(مرقات)
۲
؎حضور انور کی وفات کے بعد حضرت بلال تاب فراق نہ لاکر دمشق جانے لگے تب حضرت صدیق نے کہا اے بلال مدینہ میں رہو ہم کو اپنی دلنواز اذان سنایا کرو تب آپ نے حضرت صدیق سے یہ عرض کیا۔بعض روایات میں ہے کہ آپ نے عرض کیا اے میرے مولٰی اب میں مسجد نبوی حضور سے خالی نہیں دیکھ سکتا۔شعر
چہ مشکل ترازیں برعا شق راز کہ بسے دلدار بیند جاء دلدار
چنانچہ آپ شام کے قافلہ کے ساتھ دمشق چلے گئے وہاں ہی ۲۰ ہجری میں وفات پاگئے۔(ا شعہ)اس گنہگار نے قبر انور کو بوسہ دیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6260