Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6237

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ الْمُنَافِقُونَ: مَا أَخَفَّ جِنَازَتَهٗ وَذٰلِكَ لِحُكْمِهٖ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَبَلَغَ ذٰلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَحْمِلُهٗ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أنس قال: لما حملت جنازة سعد بن معاذ قال المنافقون: ما أخف جنازته وذلك لحكمه في بني قريظة فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «إن الملائكة كانت تحمله» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب سعد ابن معاذ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافق بولے کہ ان کا جنازہ کتنا ہلکا ہے یہ ہلکا پن ان کے بنی قریظہ میں فیصلہ کی وجہ سے ہے ۱∞؎یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو فرمایا کہ یہ جنازہ فرشتے اٹھائے
ہوئے تھے۲
؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎ان منافقوں نے یہ سمجھا کہ جنازہ ہلکا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس نیک اعمال نہیں یا بہت کم ہیں نیکیوں کا وزن ہوتا ہے تو بولے کہ چونکہ انہوں نے بنی قریظہ کا پنچ بننے پر فیصلہ یہ کیا تھا کہ ان کے جوان قتل کردیئے جاویں اور بچے چھوڑ دیئے جاویں یہ ظلم تھا جس کی وجہ سے ان کی نیکیاں برباد ہوگئیں اور جنازہ ہلکا ہوگیا حالانکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس فیصلہ کے وقت فرمایا تھا کہ تم نے فرشتہ کا حکم دیا،حضور انور جسے عدل فرمادیں اسے یہ بدنصیب ظلم کہتے تھے۔
۲
؎یعنی حضرت سعد کا جنازہ تمہارے کندھوں پر برائے نام تھا حقیقتًا تو اسے فرشتے اٹھائے ہوئے تھے۔خیال رہے کہ نیک اعمال میں بھی وزن ہوتا ہے اور برے اعمال میں بھی مگر نیکی کا وزن اوپر کو جاتا ہے کہ اس میں نورانیت ہے اور گناہوں کا وزن نیچے آتا ہے کہ اس میں مادیت اور ظلمانیت ہے،کثیف چیز نیچے گرتی ہے لطیف اوپر جاتی ہے،رب فرماتا ہے"اِلَیۡهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ"یہ ہی قول صوفیاء کا ہے،دوسری روایت میں ہے کہ حضرت سعد کے جنازہ پر ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6237