Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6207

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَجَعَلَ أَصْحَابُهٗ يَمَسُّونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ لِينِهَا فَقَالَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ؟ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الجنَّةِ خيرٌ مِنْهَا وَأَلْيَنُ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن البراء قال: أهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم حلة حرير فجعل أصحابه يمسونها ويتعجبون من لينها فقال: أتعجبون من لين هذه؟ لمناديل سعد بن معاذ في الجنة خير منها وألين . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حریر کا جوڑا پیش کیا گیا ۱∞؎حضور کے صحابہ اسے چھونے اور اس کی نرمی سے تعجب کرنے لگے۲؎تو فرمایا کیا تم اس کی نرمی سے تعجب کرتے ہو سعد ابن معاذ کے جنت میں رومال اس سے اچھے اور اس سے زیادہ نرم ہیں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ریشمی جوڑا کسی عجمی بادشاہ نے حضور کی بارگاہ میں بطور ہدیہ بھیجا تھا اہل مدینہ کے لیے یہ ایک عجیب کپڑا تھا۔
۲
؎کیونکہ یہ مدینہ منورہ میں ایک عجیب شے تھی اس سے پہلے اہل مدینہ نے یہ چیز نہ دیکھی تھی۔
۳
؎منادیلجمع ہےمندیلکی جس کا مادہندلہے بمعنی میل،چونکہ رومال سے میل صاف کیا جاتا ہے اس لیے اسے مندیل کہتے ہیں۔یعنی حضرت سعد ابن معاذ کے ہاتھ منہ پونچھنے والے رومال بھی اس کپڑے سے زیادہ خوبصورت اور نرم ہیں، جب ان کے رومال کی یہ کیفیت ہے تو ان کے پہننے کے کپڑے کیسے ہوں گے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور ہرجنتی کا مکان اس کا لباس تک جانتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6207