Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6240

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ لَمَّا حَضَرَهُ المَوْتُ قَالَ: اِلْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَعِنْدَ سَلْمَانَ وَعِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعِنْدَ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيّا فَأسلم فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّهٗ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن معاذ بن جبل لما حضره الموت قال: التمسوا العلم عند أربعة: عند عويمر أبي الدرداء وعند سلمان وعند ابن مسعود وعند عبد الله بن سلام الذي كان يهوديا فأسلم فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنه عاشر عشرة في الجنة . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ جب انہیں موت آئی تو فرمایا کہ تم چار شخصوں کے پاس علم تلاش کرو عویمر یعنی ابوالدرداء ۱∞؎سلمان اور ابن مسعود اور عبداللہ ابن سلام کے پاس۲؎جو پہلے یہودی تھے۳؎پھر اسلام لائے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ وہ جنت والوں کے دس میں سے دسویں ہیں ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابو الدرداء کا نام عویمر ابن عامر ہے،انصاری خزرجی ہیں،درداء آپ کی بیٹی کا نام ہے،آپ بڑے عالم فقیہ تھے، ۳۲ھ؁ ∞بتیس میں دمشق میں وفات پائی۔(مرقات)
۲
؎یعنی علم دین یا علم حلال و حرام ان چار شخصوں سے تم کو بہ آسانی اور بہ فراوانی حاصل ہوگا۔
۳
؎اس میں حضرت عبداللہ ابن سلام کی تعریف ہے کہ آپ یہودی تھے،پھر طلب حق اور طلب علم میں اپنی رضا و رغبت سے حضور انور کو دیکھتے ہی ایمان لائے۔
۴
؎اس فرمان عالی کی چند شرحیں ہوسکتی ہیں: (۱)حضرت عبداللہ ابن سلام عشرہ مبشرہ میں سے ایک کی مثل ہیں درجات اور فضائل میں(۲)آپ جنت میں جاتے وقت دسویں ہوں گے کہ نوجنتی آپ سے جنت میں پہلے داخل ہوں گے دسویں آپ (۳)جنت میں مختلف قسم کی جماعتیں ترتیب وار جائیں گی آپ دسویں جماعت میں ہوں گے کہ نو جماعتیں آپ سے پہلے داخل ہوں گی دسویں جماعت آپ کی داخل ہوگی(۴)نو مسلم یہودی جو جنت میں جائیں گے ان میں سے دسویں نمبر میں آپ ہوں گے (مرقات،اشعہ)لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ آپ تو عشرہ مبشرہ میں سے نہیں ہیں پھریہ فرمان عالی کیونکر درست ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6240