Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6221

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْكُونَ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكُمْ؟ قَالُوا: ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا فَدَخَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهٗ بِذٰلِكَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ عَصَّبَ عَلٰى رَأْسِهٖ حَاشِيَةَ بُرْدٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَر وَلم يَصْعَدهُ بَعْدَ ذٰلِكَ الْيَوْمِ. فَحَمِدَ الله وَأَثْنٰى عَلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَقَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنه قال: مر أبو بكر والعباس بمجلس من مجالس الأنصار وهم يبكون فقال: ما يبكيكم؟ قالوا: ذكرنا مجلس النبي صلى الله عليه وسلم منا فدخل أحدهما على النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بذلك فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وقد عصب على رأسه حاشية برد فصعد المنبر ولم يصعده بعد ذلك اليوم. فحمد الله وأثنى عليه. ثم قال: «أوصيكم بالأنصار فإنهم كرشي وعيبتي وقد قضوا الذي عليهم وبقي الذي لهم فاقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ جناب ابوبکر و عباس انصار کی مجلسوں سےکسی مجلس پرگزرے وہ حضرات رو رہے تھے ۱∞؎تو ان دونوں نے کہا کہ تم کو کیا چیز رلاتی ہےوہ بولے کہ ہم کو نبی صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ اپنی ہم نشینی یاد آگئی ۲؎تو ان دونوں میں سے ایک نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور کو اس کی خبر دی۳؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم باہر تشریف لائے آپ نے اپنے سر پر چادر کے کنارہ کی پٹی باندھی ہوئی تھی آپ منبر پر چڑھے اور اس دن کے بعد پھر کبھی نہ چڑھے۴؎الله کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا کہ میں تم لوگوں کو انصار کے متعلق وصیت کرتا ہوں ۵؎کیونکہ یہ لوگ میرے خاص مشیر اور میرے خاص ہیں ۶؎یہ لوگ وہ حق ادا کرچکے جو ان پر تھا اور وہ حق باقی رہ گیا جو ان کا ہے ۷؎تو ان کے نیکوں سے قبول کرو اور ان کے بروں سے درگزر کرو ۸؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی مرض وفات شریف کا ہے جب کہ کئی دن حضور دولت خانہ سے باہر تشریف نہیں لائے شدت مرض کی وجہ سے،انصار نے جمال جہاں آرا کچھ روز نہ دیکھا تو تڑپ گئے؎در فراق تو مرا چوں سوخت جان چوں نہ نالم بے تو اے جان جہاں
۲
؎یعنی ہم لوگوں کو وہ مبارک گھڑیاں یاد آرہی ہیں جب ہم پروانوں کی طرح شمع جمال محمدی کے گرد قربان ہوتے تھے، ہائے وہ ساعتیں کہاں گئیں؎خوشا وہ وقت کہ دیدار عام تھا اس کا خوشا وہ وقت کہ طیبہ تھا مقام اس کا
یہ ہے حضرات صحابہ کا عشق رسول الله صلی الله علیہ و سلم اس کا ایک ذرہ ہم کو بھی عطا کرے
؎ذرہ عشق نبی ازحق طلب سوزِ صدیق و علی ازحق طلب
۳
؎یہ حاضر ہونے والے حضرت عباس تھے جیساکہ دوسری روایت میں ہے۔عرض کیا کہ حضور آپ کے فراق میں بہت بے چین ہیں ایک جھلک حضور انہیں دکھادیں۔
۴
؎یعنی حضور انور کا یہ آخری وعظ بلکہ عام صحابہ کو آخری دیدار تھا ا س وقت سارے اہلِ مدینہ کا کیا حال ہوا ہوگا رب تعالٰی ہی جانتا ہے؎لذت بادہ عشقش زمن مست مپرس ذوق ایں مے نہ شناسی بخدا تانہ چشی
۵
؎اس میں خطاب یا تو مہاجرین سے ہے یا سارے اہل مدینہ سے یا اپنے بعد والے خلفاء سے یا تاقیامت سارے مسلمانوں سے۔
۶
؎کرشکاف کے فتحہ اور ر کے کسرہ سے بروزنکشف۔اس کے چند معنی ہیں: معدہ،کنبہ،چھوٹے بچے جماعت،مشیرکار یہاں سارے معنی درست ہیں اورعبیہخاص لباس رکھنے کی صندوقچی۔بہرحال مطلب یہ ہے کہ انصار میرے خاص راز دار لوگ ہیں۔
۷
؎یعنی بیعت عقبہ میں انصار نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم آپ کی مدد کریں گے آپ مدینہ منورہ تشریف لائیں ہم ہر طرح آپ پر نثار ہوں گے،ہم نے ان سے ثواب جنت،رحمت،بخشش کا وعدہ کرلیا ہے،انہوں نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہمارا وعدہ باقی ہے،رب فرماتا ہے:"اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اَنۡفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمۡ بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَنَّۃَ"۔ (لمعات،مرقات،اشعہ)
۸
؎یعنی اگر ان میں سے کوئی انصاری تم میں سے کسی کا کوئی قصور کرے پھر معذرت کرے تو اس کی معذرت قبول کرلو اور اگر وہ معذرت کرنے نہ آوے تب بھی اسے معافی دے دو،نہ اس سے دنیا میں بدلہ لو نہ آخرت میں بدلہ لینے کی نیت کرو،یہ میرے محسن ہیں ان سے اچھا سلوک کرو۔(مرقات)یہ مطلب نہیں کہ انصار کو گناہ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔محسناورمسیئکے یہ ہی معنی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6221