Main Icon

باب :شب قدر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2088

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كعْبٍ فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُوْدٍ يَقُوْلُ: مَنْ يَقُم الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ: رَحِمَهُ اللّٰهُ، أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهٗ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِيْ رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِيْنَ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِيْ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِيْنَ. فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُوْلُ ذٰلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ؟ قَالَ: بِالْعَلَامَةِ -أَوْ بِالآيَةِ- الَّتِيْ أَخْبَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن زر بن حبيش قال: سألت أبي بن كعب فقلت: إن أخاك ابن مسعود يقول: من يقم الحول يصب ليلة القدر، فقال: رحمه الله، أراد أن لا يتكل الناس أما إنه قد علم أنها في رمضان، وأنها في العشر الأواخر، وأنها ليلة سبع وعشرين، ثم حلف لا يستثني أنها ليلة سبع وعشرين. فقلت: بأي شيء تقول ذلك يا أبا المنذر؟ قال: بالعلامة -أو بالآية- التي أخبرنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنها تطلع يومئذ لا شعاع لها. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زِر بن حبیش سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے حضرت ابی ابن کعب سے پوچھا میں نے کہا کہ تمہارے بھائی ابن مسعود فرماتے ہیں جو سال بھر شب بیداری کرے وہ شب قدر پا لے گا ۲؎وہ بولے اللہ ان پر رحم کرے انہوں نے چاہا یہ لوگ بھروسہ نہ کرلیں ورنہ وہ جانتے ہیں کہ شبِ قدر رمضان میں ہے اس کے آخری عشرہ میں ہے اور وہ ستائیسویں شب ہے ۳؎پھر آپ نے بغیران شاء اللهکہے قسم کھائی کہ وہ ستائیسویں شب ہے ۴؎میں نے کہا آپ کس دلیل سے یہ فرماتے ہیں اے ابو المنذر فرمایا اس نشانی یا اس دلیل سے جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی کہ اس دن سورج بغیر شعاؤں کے طلوع ہوتا ہے ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ جلیل القدر تابعین میں سے ہیں،آپ کی عمر ایک سوبیس یا ایک سوتیس یا ڈیڑھ سو برس ہوئی،آدھی عمر جاہلیت میں گزاری، آدھی اسلام میں،زبردست قاری تھے،حضرت ابن مسعود و ابی ابن کعب کے ساتھیوں میں سے ہیں۔
۲
؎شب بیداری سے مراد نماز تہجد پڑھنا ہے کیونکہ تمام سال پوری رات جاگنا شرعًا ممنوع ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيْلًا"۔یہ حدیث ان بزرگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ شبِ قدر نہ تو رمضان کی کسی خاص تاریخ سے مخصوص ہے نہ خود رمضان شریف سے بلکہ سال کے کسی مہینہ میں ضرور ہوتی ہے۔
مسئلہ: اگر کوئی اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے شب قدر کی صبح کو طلاق ہے تو کہنے سے سال بھر کے بعد طلاق واقع ہوگی کیونکہ نکاح یقینی تھا اور شبِ قدر کی تعیین میں شک ہے سال میں یقینًا ہوتی ہے یقینی چیز یقینی سے ہی زائل ہوسکتی ہے۔
۳
؎یعنی میرا بھی گمان غالب قریبًا یقین ہے اور حضرت ابن مسعود کا بھی کہ شبِ قدر ستائیسوئیں رمضان کی رات ہے مگر انہوں نے اس کا اظہار محض اس لیے نہ کیا کہ تم لوگ اس کی تلاش نہ چھوڑو تلاش میں لگے رہو کہ ثواب پاتے رہو کہ اچھی چیز کی تلاش بھی اچھی ہے۔
۴
؎یعنی یوں فرمایا کہ قسم خدا کی شبِ قدر ستائیسویں رمضان کی شب ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مسائل اجتہادیہ پر قسم کھائی جاسکتی ہے مثلًا حنفی کہے قسم خدا کی آمین اونچی آواز سے پکارنا منع ہے یا اللہ کی قسم رفع یدین نہ کرنا سنت ہے،دیکھو حضرت ابی ابن کعب اپنے اجتہاد سے جانی ہوئی بات پر قسم کھارہے ہیں آپ کو اتنا اعتماد ہے۔
۵
؎یعنی شبِ قدر کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ اس کے سویرے کو سورج کی بوقت طلوع شعاعیں نہیں پڑتیں،سفید بغیر شعاع طلوع ہوتا ہے بعد میں شعاعیں ظاہر ہوتی ہیں اور میں نے یہ آزمالیا کہ ستائیسویں رمضان کو ایسا ہوتا ہے۔اس دلیل کا کبریٰ نص سے ثابت ہے اور صغرٰی ان کے اجتہاد سے لہذا دلیل اجتہادی ہوئی۔اشعۃ اللمعات میں اس جگہ فرمایا کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے شبِ قدر کے متعلق پوچھا تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ رمضان کے آخری عشر کی ساتویں رات ہے خواہ سات باقی ہوں یا سات گزر گئی ہوں یعنی تئیسویں یا ستائیسویں شب،جناب عمر نے پوچھا دلیل کیا ہے آپ نے فرمایا کہ رب تعالٰی نے آسمان بنائے سات،زمین سات،ہفتہ کے دن سات،انسان کی پیدائش سات اندام سے،نیز انسان کھاتا ہے سات اعضاء سے،سجدہ کرتا ہے سات اعضاء پر،طواف میں سات چکر ہیں،رمی جمار میں سات کنکر ہی مارے جاتے ہیں لہذا شب قدر بھی سات کا ہی عدد چاہئیے حضرت عمر نے فرمایا اے ابن عباس تم نے وہ ہی چیز جان لی جو ہمارے علم میں بھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2088