Main Icon

باب :شب قدر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2089

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِيْ غَيْرِهٖ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عائشة قالت: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يجتهد في العشر الأواخر ما لا يجتهد في غيره. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اس قدر مشقت فرماتے تھے جو دیگر ایام میں نہ کرتے تھے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎چنانچہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بھی کرتے تھے اور عمومًا شب بیداری بھی یا تو اس لیے کہ اس عشرہ میں شب قدر ہے یا ا س لیے کہ مہمان جارہا ہے الوداع سامنے ہے جو اوقات مل جائیں غنیمت ہے یا اس لیے کہ مہینہ کا خاتمہ زیادہ عبادتوں پر ہو۔بزرگوں کو دیکھا گیا ہے کہ بڑھاپے میں دنیا سے کنارہ کرکے عبادت زیادہ کرتے ہیں کہ اب چلتا وقت ہے جو ہوسکے کرلیں۔شعر
اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2089