Main Icon

باب :شب قدر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2095

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَقَالَ: "خَرَجْتُ لأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَرُفِعَتْ، وَعَسَى أَنْ يَكُوْنَ خَيرًا لَكُمْ، فَالْتَمِسُوْهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن عبادة بن الصامت قال: خرج النبي -صلى الله عليه وسلم- ليخبرنا بليلة القدر فتلاحى رجلان من المسلمين فقال: "خرجت لأخبركم بليلة القدر، فتلاحى فلان وفلان فرفعت، وعسى أن يكون خيرا لكم، فالتمسوها في التاسعة والسابعة والخامسة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شبقدر بتانے تشریف لائے ۱؎تو دو مسلمان مرد لڑ پڑے ۲؎حضور نے فرمایا کہ میں تمہیں شب قدر بتانے آیا تھا مگر فلاں فلاں لڑ پڑے تو شبِ قدر اٹھالی گئی ۳؎ممکن ہے یہ اٹھالیا جانا تمہارے لیے بہتر ہی ہو۴؎اب اسے آخری نویں،ساتویں،پانچویں میں تلاش کرو ۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کی خبربھی دے دی گئی اور بتانے کی اجازت بھی دے دی گئی اس لیے سر کار بتانے کے لیے تشریف لائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی نے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو شبقدر کا علم دیا۔
۲
؎غالبًا یہ حضرات عبد اللہ ابن ابی حدرد اور کعب ابن مالک تھے جن کا جھگڑا قرض کے متعلق تھا جن میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھا معاف کرادیا اور باقی آدھا ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
۳
؎یعنی میرے علم سے اس کا تقرر دور کردیا گیا اور مجھے بھلا دی گئی،یہ مطلب نہیں کہ خود شب قدر ہی ختم کردی اب وہ ہوا ہی نہ کرے گی ان جھگڑنے والوں کا جھگڑانا حق بھی تھا اور اعتدال سے زیادہ بھی جس کا اثر یہ ہوا۔معلوم ہوا کہ دنیاوی جھگڑے منحوس ہیں ان کا وبال بہت ہی زیادہ ہے ان کی وجہ سے اللہ کی آتی ہوئی رحمتیں رک جاتی ہیں۔
۴
؎یعنی اس شر کے ضمن میں تمہارے لیے خیر ہے کہ اب تم شبِ قدر تلاش کرو گے اور اس کی تلاش بھی عبادت ہے،لہذا تم اس پر بھی بہت ثواب پاؤ گے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص شبِ قدر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے تو وہ بھی لوگوں پر ظاہر نہ کرے کہ اس کا ظاہر نہ کرنا سنت ہے اور ظاہر کردینا خلاف سنت اللہ تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع کردیا تھا مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحقیقی اطلاع نہ دی تھی یا علامتیں بتائیں یا نوعی تقرر ظاہر کیا۔
۵
؎یعنی رمضان کی انتیسویں،ستائیسویں،پچیسویں راتوں میں زیادہ جستجو کرو غالب یہ ہے کہ ان میں سے کسی رات میں ہے۔اس فرمان سے معلوم ہوا کہ اس جھگڑے سے خود شبقدر نہ اٹھی تھی بلکہ اس کا تعین اٹھا ورنہ اس کے تلاش کرنے کے کیا معنی،تلاش وہ چیز کی جاتی ہے جو ہو مگر اس کا پتا نہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2095