- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- حدیث نمبر 4662
باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4662
اچھی باتوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ فَحَمِدَ اللّٰهَ بِإِذْنِهٖ فَقَالَ لَهٗ رَبُّهُ: يَرْحَمُكَ اللّٰهُ يَا آدَمُ اذْهَبْ إِلٰى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ إِلٰى مَلَأٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ فَقُلْ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. قَالُوا: عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ. ثُمَّ رَجَعَ إِلٰى رَبِّهٖ فَقَالَ: إِنَّ هٰذِهٖ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ بَيْنَهُمْ. فَقَالَ لَهُ اللّٰهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ: اِخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ؟ فَقَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ ثُمَّ بَسَطَهَا فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهٗ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مَكْتُوبٌ عُمْرُهٗ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَضْوَؤُهُمْ - أَوْ مِنْ أَضْوَئِهِمْ - قَالَ: يَا رَبِّ مَنْ هٰذَا؟ قَالَ: هٰذَا ابْنُكَ دَاوُدُ وَقَدْ كَتَبْتُ لَهٗ عُمْرَهٗ أَرْبَعِينَ سَنَةً. قَالَ: يَا رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهٖ . قَالَ: ذٰلِكَ الَّذِي كَتَبْتُ لَهٗ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهٗ مِنْ عُمْرِي سِتِّينَ سَنَةً. قَالَ: أَنْتَ وَذَاكَ. قَالَ: ثُمَّ سَكَنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا وَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهٖ فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهٗ آدَمُ: قَدْ عَجَّلْتَ قَدْ كُتِبَ لِي أَلْفَ سَنَةٍ. قَالَ: بَلٰى وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكَ دَاوُدَ سِتِّينَ سَنَةً فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهٗ وَنَسِيَ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهٗ " قَالَ: « فَمِنْ يَوْمَئِذٍ أُمِرَ بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ » رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لما خلق الله آدم ونفخ فيه الروح عطس فقال: الحمد لله فحمد الله بإذنه فقال له ربه: يرحمك الله يا آدم اذهب إلى أولئك الملائكة إلى ملأ منهم جلوس فقل: السلام عليكم. فقال: السلام عليكم. قالوا: عليك السلام ورحمة الله. ثم رجع إلى ربه فقال: إن هذه تحيتك وتحية بنيك بينهم. فقال له الله ويداه مقبوضتان: اختر أيتهما شئت؟ فقال: اخترت يمين ربي وكلتا يدي ربي يمين مباركة ثم بسطها فإذا فيها آدم وذريته فقال: أي رب ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذريتك فإذا كل إنسان مكتوب عمره بين عينيه، فإذا فيهم رجل أضوؤهم - أو من أضوئهم - قال: يا رب من هذا؟ قال: هذا ابنك داود وقد كتبت له عمره أربعين سنة. قال: يا رب زد في عمره . قال: ذلك الذي كتبت له. قال: أي رب فإني قد جعلت له من عمري ستين سنة. قال: أنت وذاك. قال: ثم سكن الجنة ما شاء الله ثم أهبط منها وكان آدم يعد لنفسه فأتاه ملك الموت فقال له آدم: قد عجلت قد كتب لي ألف سنة. قال: بلى ولكنك جعلت لابنك داود ستين سنة فجحد فجحدت ذريته ونسي فنسيت ذريته " قال: « فمن يومئذ أمر بالكتاب والشهود » رواه الترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب الله نے حضرت آدم کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو انہیں چھینک آئی انہوں نے کہاالحمدﷲ(باذن الٰہی)پھر ان سے ان کے رب نے کہا اے آدم الله تم پر رحمت کرے ۲؎ان فرشتوں کے پاس جو جماعت بیٹھی ہے جاؤ تو کہو السلام علیکم ۳؎چنانچہ انہوں نے کہا السلام علیکم وہ بولے علیک السلام ورحمۃ الله ۴؎پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹے ۵؎تو فرمایا یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں سلام ہے پھر ان سے الله نے فرمایا حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ کی مٹھیاں بندتھیں ۶؎کہ جو لینا چاہو اختیار کرلو ۷؎عرض کیا میں نے اپنے رب کا داہنا ہاتھ اختیار کیا میرے رب کے دونوں ہاتھ داہنے اور مبارک ہیں ۸؎پھر رب نے ہاتھ کھولا تو اس میں آدم اور ان کی اولاد تھی ۹؎عرض کیا یارب یہ کون لوگ ہیں فرمایا یہ تمہاری اولاد ہے ۱۰؎تو ہر انسان کی عمر اس کی آنکھوں کے درمیان لکھی تھی ۱۱∞؎ان میں ایک صاحب بہت چمکدار تھے یا ان کے بہت چمک داروں سے ۱۲؎عرض کیا یارب یہ کون ہیں فرمایا یہ تمہارے فرزند داؤد ہیں اور ان کی عمر میں نے چالیس سال لکھی ہے ۱۳؎عرض کیا یارب ان کی عمر میں زیادتی کردے فرمایا میں نے ان کے لیے یہ ہی لکھی ہے ۱۴؎عرض کیا یارب میں نے اپنی عمر میں سے ساٹھ سال انہیں دیئے ۱۵؎فرمایا تم جانو اور یہ کام ۱۶؎فرماتے ہیں پھر جتنا الله نے چاہا حضرت آدم جنت میں رہے پھر وہاں سے اتارے گئے اور حضرت آدم اپنی عمر گنتے تھے ۱۷؎پھر ان کے پاس ملک الموت آئے تو آدم نے ان سے کہا تم نے جلدی کی میری عمر ایک ہزار سال لکھی گئی عرض کیا ہاں لیکن آپ نے اپنے فرزند داؤد کو ساٹھ سال دے دیئے ہیں ۱۸؎حضرت آدم نے انکار کردیا ۱۹؎چنانچہ ان کی اولاد انکار کرتی ہے آپ بھول گئے تو اولاد بھولنے لگی۲۰؎فرماتے ہیں کہ اس دن سے لکھنے گواہ بنانے کا حکم دیا گیا ۲۱∞؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی انہیں پیدا ہوتے ہی چھینک آنا جو صحت و تندرستی کی علامت ہے الله کی رحمت اس کے فضل سے تھا اور چھینک پرالحمدللہ کہنا بھی الله کے ارادے اس کی تعلیم اس کی رحمت سے تھا انہیں کسی نے سکھایا نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ آپ علم لدنی سے عالم تھے جیسے ہمارے حضور نے پیدا ہوتے ہی سجدہ کیا اور سجدہ میں حمد الٰہی کی یہ سب رب کی تعلیم سے ہے۔
۲؎یہ واقعہ فرشتوں کے سجدے کے بعد کا ہے لہذا اس آیت کے خلاف نہیں"فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ"۔یرحمك اللهاگر دعائیہ کلام ہے تو بندوں کی تعلیم کے لیے ہے کہ اولاد چھینک کے جواب میں یہ کہا کریں جیسے قرآن کریم میں ہے"اِھۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ"اور اگر یہ فرمان خبر کے لیے ہے یعنی الله تعالٰی تم پر رحمت کرے گا تو مقصد ظاہر ہے۔
۳؎یعنی اے آدم آپ ان فرشتوں کے پاس جاؤ انہیں تحیۃ و ملاقات کا سلام کرو۔معلوم ہواکہ آنے والا سلام کرے بیٹھے ہوؤں کو اگرچہ آنے والا افضل ہو اور بیٹھے ہوئے لوگ مفضول ہوں،دیکھو آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل بلکہ ان کے مسجود ہیں مگر آپ نے ہی سلام کیا۔
۴؎فرشتوں نے جواب میں ورحمۃ الله زیادہ کیا تاکہ آئندہ کے لیے سبق ہو کہ جواب میں کچھ زیادتی کردی جایا کرے۔
۵؎یعنی اس جگہ لوٹے جہاں پہلے رب تعالٰی سے کلام کیا تھا ورنہ رب تعالٰی کی رحمت و قدرت ہر جگہ ہے۔
۶؎یہ جملہ متشابہات سے ہے اس کے حقیقی معنی ہماری عقل و فہم سے بالا ہیں،الله تعالٰی جسمانی ہاتھ اور مٹھی سے پاک ہے اس کے معنی یا رب تعالٰی جانے یا اس کے محبوب صلی الله علیہ و سلم۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ دونوں ہاتھوں سے مراد صفت جمال و جلال ہیں،ان صفتوں میں مرحومین اور مردودین ایسے چھپے تھے جیسے مٹی کی چیز مٹھی میں چھپی ہوتی ہیں۔والله تعالٰی اعلم!۷؎یعنی ان دونوں میں سے جس کو چاہو اپنا لو اسکے اندر کے بندوں کو اپنا بنالو۔
۸؎یہ ساری عبارت متشابہات سے ہے اس کے حقیقی معنی وہ ہیں جو الله رسول جانیں۔یہاں اشعۃ اللمعات میں اسی جملہ کے پانچ معنی بیان فرمائے: ان میں سے ایک یہ ہے کہ مخلوق کے داہنے بائیں میں سے بایاں ضعیف و کمزور ہوتا ہے داہنا قوی،رب تعالٰی ضعف و کمزوری سے پاک ہے اس کی صفات رحمت اور صفات قہر دونوں ہیں یعنی دونوں مبارک و قوی ہیں ۔ وہ وہ عزیزوغالب ہے جسے گمراہ کرتا ہے تو حکمت سے اور جسے ہدایت دیتا ہے تو حکمت سے۔
۹؎یہاں آدم علیہ السلام عالم شہود میں تھے دست قدرت میں عالم غیب میں بطورِ مثال تھے،خود اپنے کو دیکھ رہے تھے جیسے کوئی شخص آئینہ میں اپنے کو اور اپنے گھر بار آل و اولاد کو دیکھے جو خود گھر میں موجود ہوں،یہ مثال محض سمجھانے کے لیے ہے از آدم تاروز قیامت سارے انسان حضرت آدم کو دکھادیئے گئے اور یہ دکھانا اجمالًا نہ تھا بلکہ تفصیلًا تھا کہ آپ نے ہر ایک کو پہچان بھی لیا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔رب تعالٰی نے پہلے تو آدم علیہ السلام کو تمام عالم کی چیزیں دکھا کر انکے نام بتادیئے اس موقعہ پر صرف اولاد آدم دکھائی۔
۱۰؎اس ہاتھ میں صالحین یعنی مؤمنین اولیاء و انبیاء ہی تھے،دوسرے دستِ قدرت میں کفار ہوں گے خبر نہیں کہ ہم کس ہاتھ میں تھے رب تعالٰی فضل کرے۔
۱۱∞؎اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ انسان کی تقدیر اس کی عمر اس کی پیشانی میں لکھی ہوتی ہے اس لیے اسے پیشانی کہتے ہیں یعنی پیش آنے والی چیز۔دوسرے یہ کہ یہ تحریر الله کے مقبول بندے پڑھ لیتے ہیں آدم علیہ السلام نے بغیر کسی مدرسہ میں تعلیم پائے یہ تحریر پڑھ لی۔تیسرے یہ کہ آدم علیہ السلام کو سارے انسانوں کی تقدیریں ان کی عمریں معلوم تھیں یہ ہی علوم خمسہ سے ہیں پھر ہمارے حضور کے علم کا کیا پوچھنا، آدم علیہ السلام کا علم ہمارے حضور کے علم کے سمندر کا قطرہ ہے۔شعر
قدرت کی تحریریں جانے امی اور تقدیریں جانے
بخشش کی تدبیریں جانے وہ ہے رحمت والا
جن کا نام ہے محمد ان سے دوجگ ہیں اجیالا
آن کی آن میں عرش پہ جاوے پلک جھپکتے فرش پہ آوے
دوجگ کا والی کہلاوے امت کا رکھوالا
جن کا نام ہے محمد ان سے دو جگ ہیں اجیالا
۱۲؎غالبًا حضرت آدم علیہ السلام کی غائر نظر حضرت یوسف علیہ السلام یا حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم پر نہ پڑی ہوگی یا ادھر متوجہ نہ ہوئے ہوں گے ورنہ حضور کا حسن تمام سے زیادہ ہے۔رب کا منشاء یہ تھا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی عمر حضرت آدم علیہ السلام کی دعا سے زیادہ نہ ہو حضور کو دینے کے لیے پیدا کیا گیا ہے نہ کہ کسی سے لینے کے لیے،رب تعالٰی کا منشاء یہ تھا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کو جناب آدم علیہ السلام کی نگاہ میں حسین ترین دکھایا جاوے تاکہ اگلا واقعہ پیش آوے۔
۱۳؎آدم علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ عمر ان کی پیشانی میں پڑھ ہی چکے تھے،رب تعالٰی کا یہ فرمان اس پڑھے ہوئے کی تصدیق و تائید کے لیے ہے۔
۱۴؎آدم علیہ السلام نے عرض کیا تھا کہ ان کی عمر اپنی طرف سے بڑھادے اس لیے یہ جواب دیا گیا کہ ہم تو انہیں وہ عمر دے چکے جو دینا تھی آپ کی دعا سے اس وقت اس میں زیادتی نہ فرمائیں گے۔خیال رہے کہ الله تعالٰی نے بعد میں حضرت آدم علیہ السلام کو ان کی عمر پوری دی یعنی ایک ہزار سال اور داؤد علیہ السلام کو بھی یہ ساٹھ سال دیئے جو آدم علیہ السلام دے چکے تھے لہذا اس فرمان عالی کے معنی یہ ہیں کہ اس وقت ان کی عمر میں زیادتی نہ کریں گے۔(مرقات)۱۵؎اس سے چند مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ الله کے مقبول بندوں کی دعا سے تقدیریں بدل جاتی ہیں عمریں بڑھ جاتی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کی دعا سے حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر بجائے چالیس سال کے سو سال ہوگئی،قرآن کریم فرماتا ہے: "مَا یُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا یُنۡقَصُ مِنْ عُمُرِہٖۤ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَی اللهِ یَسِیۡرٌ"بلکہ بعض اعمال سے عمریں بڑھ جاتی ہیں،حضور فرماتے ہیں کہ صدقہ سے عمر بڑھتی ہے۔
۱۶؎یعنی منظور ہے اگر تم ہی اپنی عمر دے رہے ہو تو تم جانو۔معلوم ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام کو اپنی عمر معلوم تھی کہ ایک ہزار سال ہے تب ہی تو آپ اس میں سے ساٹھ سال دے رہے ہیں اگر آپ کو خبر ہی نہ ہوتی کہ میری عمر دس سال ہے یا بیس سال تو آپ ساٹھ سال کیسے دیتے۔
۱۷؎خیال رہے کہ آپ کی یہ عمر جنت سے واپس آنے کے بعد شرو ع ہوئی تھی،اس وقت سے آپ نے گنتی شروع کی تھی ورنہ آپ جنت میں بہت دراز مدت رہے وہ مدت عمر کے حساب میں نہیں لگی۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تب اس کی عمر شروع ہوتی ہے پیٹ میں رہنے کی مدت عمر کے حساب میں نہیں لگتی اس لیے یہاںثم اھبطارشاد ہوا۔
۱۸؎تقدیر کے بیان میں جو حدیث گزری ہے وہاں چالیس سال کا ذکر ہے یہاں ساٹھ کا ذکر۔بات یہ تھی کہ آدم علیہ السلام نے داؤد علیہ السلام کو پہلے چالیس دیئے پھر ساٹھ سال کردیئے یعنی بیس سال اور زیادہ حضرت ملک الموت اولًا تو جب آئے جب کہ جناب آدم کی عمر کے ساٹھ سال باقی تھے آپ نے انکار کیا پھر بیس سال بعد آئے جب چالیس سال باقی تھے تاکہ ان بیس سال میں آپ اور بھی غور کرلیں سوچ لیں لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاءکرام کی موت ان کی رضا سے آتی ہے وہ جب چاہتے ہیں تب انہیں وفات دی جاتی ہے،موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ ابھی موت نہیں چاہتے تو بیل کی کھال پر ہاتھ پھیریں جتنے بال آپ کے ہاتھ لگیں فی بال ایک سال۔
۱۹؎یعنی آدم علیہ السلام یہ واقعہ ایسا بھولے کہ یاد دلانے پر بھی انہیں یاد نہ آیا عمر لینا تو یاد رہا مگر عمر دینا یاد نہ رہا۔خیال رہے کہ یہاں انکار اپنی یاد آنے کا ہے نہ کہ اصلی واقعہ کا اصل واقعہ تو بذریعہ فرشتہ کے رب تعالٰی بیان فرمارہا ہے اس کا انکار کیسے ہوسکتا ہے۔
۲۰؎آپ سے بھول تو گندم کھانے میں ہوئی اور انکار عمر دینے کا ہوا اولاد میں ماں باپ کا اثر آتا ہے اس لیے انسانوں میں یہ مرض خصوصیت سے موجود ہیں۔
۲۱∞؎معلوم ہوا کہ معاملات کا لکھ لینا ان پر گواہ بنالینا آدم علیہ السلام کے زمانہ سے ہی چلا آرہا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4662