Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4645

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ ثُمَّ أَتٰى آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُاللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ وَمَغْفِرَتُهٗ فَقَالَ: أَرْبَعُونَ وَقَالَ: هٰكَذَا تَكُوْنُ الْفَضَائِلُ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن معاذ بن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه وزاد ثم أتى آخر فقال: السلام عليكم ورحمةالله وبركاته ومغفرته فقال: أربعون وقال: هكذا تكون الفضائل . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

ابوداؤد نے حضرت معاذ ابن انس سے بھی روایت کی وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی ہیں اس کے ہم معنی اور زیادتی کی کہ پھر دوسرا اور آیا اس نے عرض کیا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ و مغفرتہ تو فرمایا چالیس اور فرمایا یونہی زیادتیاں ہوتی رہیں گی ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ ثواب صرفمغفرتہتک ہی محدود نہیں کہ ان کلمات کے علاوہ اور کوئی کلمہ بڑھاؤ ثواب نہ بڑھے بلکہ جس قدر کلمات بڑھاتے جاؤ گے ثواب بھی فی کلمہ دس کے حساب سے بڑھتا ہی جائے گا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ السلام علیکم بھی جائز ہے سلام کو معرفہ کرکے اور سلام علیکم بھی جائز سلام کو نکرہ کرکے،السلام کے معنی ہیں وہ سلام یعنی الله کا سلام یا آدم علیہ السلام کا سلام جو انہوں نے فرشتوں کو کیا تھا وہ تم پر بھی ہو، قرآن مجید میں دو طرح سلام مذکور ہیں رب فرماتاہے: "وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی"یہاںسلاممعروف اور فرماتاہے:"سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ" یہاںسلامنکرہ ہے۔ خیال رہے کہ جواب سلام میں علیکم پہلے ہو سلام بعد میں،اگر جواب میں بھی السلام علیکم کہہ دیا تو فرض ادا ہوگیا سنت رہ گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4645