Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4630

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لِلْمُؤْمِنِ عَلَى المُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: يَعُودُهٗ إِذَا مَرِضَ وَيَشْهَدُهٗ إِذَا مَاتَ وَيُجِيبُهٗ إِذَا دَعَاهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهٗ وَيُشَمِّتُهٗ إِذَا عَطَسَ وَيَنْصَحُ لَهٗ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ «لَمْ أَجِدْهُ» فِي الصَّحِيحَيْنِ «وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلٰكِنْ ذَكَرَهٗ صَاحِبُ» الْجَامِع " بِرِوَايَةِ النَّسَائِيِّ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم" للمؤمن على المؤمن ست خصال: يعوده إذا مرض ويشهده إذا مات ويجيبه إذا دعاه ويسلم عليه إذا لقيه ويشمته إذا عطس وينصح له إذا غاب أو شهد «لم أجده» في الصحيحين «ولا في كتاب الحميدي ولكن ذكره صاحب» الجامع " برواية النسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ )سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن کے مؤمن پر چھ حق ہیں ۱∞؎جب وہ بیمار ہو تو مزاج پرسی کرے ۲؎اور جب مرجاوے تو جنازہ پر حاضر ہو ۳؎جب دعوت دے تو قبول کرے،جب اس سے ملے تو اسے سلام کرے اور جب چھینکے ۴؎تو جواب دے اور اس کی خیر خواہی کرے جب وہ غائب ہو یا حاضر ۵؎یہ روایت میں نے نہ تو مسلم،بخاری میں پائی نہ کتاب حمیدی میں لیکن اسے جامع والے نے بروایت نسائی فرمایا ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حقوق اگرچہ واجب یا فرض یا سنت نہیں مگر حق اسلام ہیں اس لیے ارشادعلیٰہوا۔
۲
؎عیادتبنا ہےعودسے بمعنی لوٹنا رجوع کرنا،چونکہ بیمار کی مزاج پرسی بار بار کی جاتی ہے اسے عیادت کہتے ہیں۔
۳
؎تاکہ اس کی نماز جنازہ پڑھو،اسے دفن کرو۔بعض شارحین نےماتکے معنی کیے جب وہ مرنے لگے یعنی اس کے نزع کے وقت وہاں موجود ہو مگر پہلے معنی زیادہ مناسب ہیں۔(مرقات)آج کل امیروں کے جنازوں پر بڑا ہجوم ہوتا ہے غریب کی میت کو کوئی پوچھتا نہیں رب توفیق خیر دے۔
۴
؎دعوت سے مراد کھانے کی دعوت اس کا قبول کرنا سنت ہے بشرطیکہ دعوت ناجائز نہ ہو جیسے میت کے تیجے چالیسویں کی رسمی برادری کی دعوتیں کہ ان کا کھانا کھلانا دونوں ممنوع ہیں۔چھینک کا جواب جب دیا جاوے جب کہ وہ چھینکنے والاالحمدﷲکہے تو سننے والا کہےیرحمك اللهپھر چھینکنے والا کہےیھدیکم الله ویصلح بالکم۔تشمتکے لغوی معنی ہیں شماتت دورکرنا۔
۵
؎پسِ پشت خیرخواہی کرنا کمال ہے روبرو خیرخواہی کی باتیں کردینا آسان ہے بلکہ بسا اوقات خوشامد ہوتی ہے۔
۶
؎کتاب حمیدی میں صرف بخاری،مسلم کی احادیث جمع کی گئی ہیں اور جامع اصول میں صحاح ستہ کی روایت جمع کی گئی،اس عبارت کا مقصود صاحب مصابیح پر اعتراض کرنا ہے کہ وہ پہلی فصل میں ایسی حدیث لائے جو مسلم،بخاری میں نہیں مگر ادبًا کہا کہ میں نے وہاں یہ حدیث نہ پائی اپنی تلاش کی کوتاہی بیان کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4630