Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4655

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ غَالِبٍ قَالَ:إِنَّا لَجُلُوسٌ بِبَابِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ائْتِهِ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ. قَالَ: فَأَتَيْتُهٗ فَقُلْتُ: أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ. فَقَالَ: عَلَيْكَ وَعَلٰى أَبِيكَ السَّلَامُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن غالب قال:إنا لجلوس بباب الحسن البصري إذ جاء رجل فقال: حدثني أبي عن جدي قال: بعثني أبي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ائته فأقرئه السلام. قال: فأتيته فقلت: أبي يقرئك السلام. فقال: عليك وعلى أبيك السلام. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت غالب سے ۱∞؎کہتے ہیں کہ ہم حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے تھے ۲؎کہ ایک شخص آیا بولا مجھے میرے والد نے میرے دادا سے خبر دی فرمایا مجھے میرے باپ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۳؎کہا حضور کے پاس جاؤ تو حضور کو میرا سلام عرض کرو۴؎فرماتے ہیں میں حضور کے پاس حاضر ہوا میں نے عرض کیا کہ میرے والد آپ کو سلام عرض کرتے ہیں تو فرمایا تم پر اور تمہارے باپ پر سلام ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ غالب ابن ابی غیلان ابن خطاب القطان ہیں،بصرہ کے رہنے والے ہیں،تابعین میں سے ہیں،امام نسائی نے آپ کو ثقہ کہا، امام احمد نے ثقہ کہا،امام یحیی نے صدوق و صالح فرمایا،بڑے عالم متقی ہیں۔
۲
؎ان کی تشریف آوری کے منتظر تھے یا ان کے ساتھ بیٹھے تھے دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں،دیکھو مرقات یہ ہی مقام۔
۳
؎یعنی میرے دادا کو ان کے باپ نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں سلام کہلا کر بھیجا تھا۔
۴
؎معلوم ہوا کہ سلام کہلا بھیجنا بھی سنت ہے اب لوگ حجاج کے ذریعہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں سلام کہلواتے ہیں حاجی کو چاہیے کہ مواجہہ شریف میں کھڑے ہوکر یوں عرض کرےالصلوۃ والسلام علیك یارسول اللهفلاں اور فلاں کی جگہ اس کا نام لے۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی کسی کا سلام پہنچائے تو پہنچانے والے اور بھیجنے والے دونوں کو جواب سلام میں داخل کرلینا چاہیے بلکہ پہنچانے والے کا ذکر پہلے اور بھیجنے والے کا ذکر بعد میں ہونا چاہیے کہ حضور انور نے پہلے فرمایاوعلیكاور بعد میں فرمایاعلی ابیكلہذا جو زائرین مدینہ دوسروں کا سلام حضور انور صلی الله علیہ وسلم کو پہنچاتے ہیں خود بھی جواب میں داخل ہوتے ہیں زہے نصیب۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4655