Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4629

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلٰى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن عمرو: أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي الإسلام خير؟ قال: «تطعم الطعام وتقرأ السلام على من عرفت ومن لم تعرف»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے کہ ایک شخص نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام اچھا ہے ۱∞؎فرمایا کھانا کھلاؤ اور سلام کرو اسے جسے پہچانو یا نہ پہچانو ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اسلامی کاموں میں کون سا کام اچھا ہے۔
۲
؎یعنی سلام صرف اسلامی رشتہ سے ہو کاروباری دنیاوی تعلقات سے نہ ہو۔خیال رہے کہ حضور کے جوابات سائل کے حال کے مطابق ہوتے تھے اسی لیے اس سوال کے جواب مختلف دیئے۔کسی سے فرمایا کہ بہترین عمل نماز ہے،کسی سے فرمایا جہاد ہے یہاں فرمایا بہترین عمل کھانا کھلانا سب کو سلام کرنا یعنی تیرے لیے یہ دو کام بہترین۔خیال رہے کہتقریسلام کرنا،سلام کہلوانا،سلام لکھنا لکھوانا ،سلام کہلا کر بھیجنا سب کو شامل ہے۔من عرفتکا تعلق صرف سلام سے ہے کھانا کھلانے سے نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4629