Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4658

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ زَيْدِ بنِ ثَابِتٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَاتِبٌ فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: " ضَعِ الْقَلَمَ عَلٰى أُذُنِكَ فَإِنَّهٗ أَذْكَرُ لِلْمَآلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَفِي إِسْنَادِهٖ ضُعْفٌ

عن زيد بن ثابت قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وبين يديه كاتب فسمعته يقول: " ضع القلم على أذنك فإنه أذكر للمآل. رواه الترمذي وقال:هذا حديث غريب وفي إسناده ضعف

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے کاتب تھا میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ قلم اپنے کان پر رکھو کہ یہ انجام کو زیادہ یاد کرانے والا ہے ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کاتب قلم کو کان سے لگائے رکھے تو اسے وہ مقصد یاد رہے گا جو اسے لکھنا ہے۔بہتر یہ ہے کہ قلم داہنے کان پر رکھے الله تعالٰی نے ہر چیز میں کوئی تاثیر رکھی ہے،قلم کان میں لگانے کی یہ تاثیر ہے کہ اسے مضمون یاد رہتا ہے۔
۲
؎یہ حدیث ابن عساکر نے بروایت حضرت انس مرفوعًا نقل فرمائی وہاںفانہ اذکرلكہے اور جامع صغیر میں حضرت زید ابن ثابت سے مرفوعًا نقل فرمائی وہاںاذکر للمآلہے،بہرحال یہ حدیث بہت اسنادوں سے مروی ہے لہذا اس کا متن صحیح ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4658