Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4651

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلْتُمْ بَيْتًا فَسَلِّمُوا عَلٰى أَهْلِهٖ وَإِذَا خَرَجْتُمْ فَأَوْدِعُوا أَهْلَهٗ بِسَلَامٍ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الإِيمَانِ» مُرْسَلًا

وعن قتادة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «إذا دخلتم بيتا فسلموا على أهله وإذا خرجتم فأودعوا أهله بسلام» رواه البيهقي في «شعب الإيمان» مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے قتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم کسی گھر میں جاؤ تو اس کے باشندوں کو سلام کرو ۱∞؎اور جب نکلو تو وہاں کے باشندوں کو سلام سے وداع کرو ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎اپنے گھر میں جاؤ یا دوسرے کے بہرحال سلام کرو،اگر خالی گھر میں جاؤ تو کہوالسلام علینا وعلی عباد الله الصالحین، اس کا ماخذوہ آیت کریمہ ہے "فَاِذَا دَخَلْتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمْ"۔ (مرقات) اور جب مسجد میں جاؤ تو کہوبسم الله و السلام علی رسول الله۔روح پاک مصطفی مسجدوں بلکہ مسلمانوں کے گھروں میں جلوہ فرما ہے۔(شرح شفا شریف)۲؎یعنی سلام کرکے وہاں سے آؤ یہ سلام وداع کہلاتا ہے اس کا جواب دینا فرض نہیں مستحب ہے۔(مرقات) بعض شارحین نے فرمایا کہفاودعوابنا ہےودیعۃبمعنی امانت سے یعنی رخصت ہوتے وقت اپنا سلام اہل خانہ کے پاس امانت رکھ آؤ کہ پھر خیر سے واپس آؤ اپنی امانت یعنی خیر و برکت و سلامتی وصول کرو،وداع کے وقت مصافحہ کرنا سنت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4651