Main Icon

باب:سلام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4660

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهٗ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولٰى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا انتهى أحدكم إلى مجلس فليسلم فإن بدا له أن يجلس فليجلس ثم إذا قام فليسلم فليست الأولى بأحق من الآخرة رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے ۱∞؎پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے ۲؎پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرے۳؎کیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ۴؎(ترمذی اورابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ آنے والا سلام کرے بیٹھے ہوؤں کو۔
۲
؎یعنی اگر وہاں بیٹھنا نہ بھی ہو صرف گزر جانا ہو جب بھی سلام کرے اور اگر بیٹھنا ہو تب بھی سلام کرے۔
۳
؎معلوم ہوا کہ راہ گیر یعنی گزرنے والا صرف ایک سلام کرے اور جو مجلس میں کچھ دیر ٹھہرے وہ دو سلام کرے ایک آنے کا دوسرا جانے کا۔
۴
؎یعنی سلام لقا اور سلام وداع دونوں سنت ہونے میں برابر ہیں ایک کو دوسرے پر کوئی ترجیح نہیں لہذا یہ دونوں سلام سنت ہیں اور ان کے جواب فرض۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4660