Main Icon

باب:لعان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3308

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "نَعَمْ" قَالَ: كَلَّا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ كُنْتُ لأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ، إِنَّهُ لَغَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللّٰهُ أَغْيَرُ مِنِّي". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال سعد بن عبادة: لو وجدت مع أهلي رجلا لم أمسه حتى آتي بأربعة شهداء؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "نعم" قال: كلا، والذي بعثك بالحق إن كنت لأعاجله بالسيف قبل ذلك قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم "اسمعوا إلى ما يقول سيدكم، إنه لغيور، وأنا أغير منه، والله أغير مني". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا سعد ابن عبادہ نے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا اسے نہ چھوؤں حتی کہ چار گواہ لاؤں تو رسول انے فرمایا ہاں ۱؎بولے ہر گز نہیں قسم اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں تو اسے اس سے پہلے تلوار سے جلد ماردوں ۲؎رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سنو جو تمہارا یہ سردار کہتا ہے ۳؎یہ بڑا ہی غیرت مند ہے ۴؎اور میں اس سے بڑھ کر غیرتمند ہوں اور امجھ سے زیادہ غیور ہے۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہاں تم اس عورت و مرد سے کچھ تعرض نہ کرو تمہارا صرف یہ کام ہے کہ چار گواہ ان کے زنا پر بنا لو اولًا ہم پر پیش کرو ہم بعد تحقیق انہیں زنا کی سزا دیں گے۔ اس سے معلوم ہو اکہ قصاص،رجم وغیرہ صرف حاکم جاری کرسکتا ہے کسی دوسرے کو حق نہیں کہ خود قانون ہاتھ میں لے کر یہ کام کرے۔
۲
؎اس عرض و معروض میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان عالی کی تردید نہیں ہے بلکہ اپنی انتہائی غیرت کا اظہار ہے کہ ایسی حالت میں مجھ پر غصہ کی وجہ سے ایسے مدہوشی طاری ہوگی کہ مجھے گواہ لانے آدمیوں کو ڈھو نڈنے کا دھیان ہی نہ رہے گا اس جنون میں اسے قتل ہی کردوں گا اسی لیے سرکار عالی نے ان کی عرض کی تردید نہ فرمائی بلکہ تعریف کی۔
۳
؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میںسیدناہے یعنی ہمارے سردار کی بات سنو،ہمارے سردار سے مراد ہے ہمارے مقرر کیے ہوئے سردار جیسے بادشاہ کسی امیر کی طرف اشارہ کرکے کہے ہمارا امیر یعنی ہمارا مقرر کردہ امیرسید کمکے معنے بالکل ظاہر ہیں غالبًا انصار سے خطاب ہوگا اور اگر تمام صحابہ سے خطاب ہو تو خصوصی سرداری مراد ہوگی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضرت سعد جناب صدیق و فاروق سے افضل ہوں۔
۴
؎یعنی جو کچھ سعد کہہ رہے ہیں اپنی غیرت کے جوش میں کہہ رہے ہیں نہ کہ ہمارے کلام عالی کی تردید میں اور جوش غیرت سرداری کی بنا پر ہے معلوم ہوا کہ سردار قوم غیرت مند ہی چاہیے۔
۵
؎اس فرمان عالی میں حضرت سعد کی غیرت کی تعریف ہے ان کے اس عمل کی تائید نہیں کیونکہ خود قتل کردینا خلاف حکم شر ع ہے اس کی تائید کیسی جب لفظ غیور ارسول کی صفت ہو تو اس سے مراد ہوتا ہےزجورسخت روکنے والا یعنی ہم اور رب تعالٰی ان بے حیائیوں کو نہایت سختی سے روکنے والے ہیں،اسی لیے زنا کی سزا ایسی سخت رکھی ہے کہ رب کی پناہ قصاص قتل میں تلوار سے مارا جاتا ہے مگر سزائے زنا میں سنگسار کیا جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3308