Main Icon

باب:لعان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3323

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا قَالَتْ: فَغِرْتُ عَلَيْهِ، فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ: "مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ؟ " فَقُلْتُ: وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَمَعِي شَيْطَانٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ" قُلْتُ: وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّه؟ قَالَ: "نعم وَلَكِنْ أَعَانَنِي اللّٰهُ علَيهِ حَتَّى أسلَمَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من عندها ليلا قالت: فغرت عليه، فجاء فرأى ما أصنع فقال: "ما لك يا عائشة أغرت؟ " فقلت: وما لي لا يغار مثلي على مثلك؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لقد جاءك شيطانك" قالت: يا رسول الله! أمعي شيطان؟ قال: "نعم" قلت: ومعك يا رسول الله؟ قال: "نعم ولكن أعانني الله عليه حتى أسلم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس سے ایک رات تشریف لے گئے فرماتی ہیں کہ میں نے اس پر غیرت کی ۱؎پھر آپ تشریف لائے تو دیکھا جو میں کررہی تھی ۲؎فرمایا اے عائشہ کیا حال ہے کیا غیرت کھاگئیں میں بولی مجھے کیا ہوا کہ مجھ جیسی بی بی آپ جیسے پر غیرت نہ کرے ۳؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس شیطان آگیا ۴؎بولیں یارسول اکیا میرے ساتھ شیطان ہے فرمایا ہاں ۵؎میں نے کہا اور آپ کے ساتھ یارسول افرمایا ہاں لیکن انے اس پر میری مدد فرمائی حتی کہ وہ مؤمن ہوگیا ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎شعبان کی پندرھویں شب تھی حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا قیام تھا حضور رات کے آخری حصہ میں قبرستان دعا وغیرہ کے لیے تشریف لے گئے جناب ام المؤمنین سمجھیں کہ کسی دوسری زوجہ کے پاس تشریف لے گئے آپ کو اس چیز کی غیرت آئی کہ میری باری میں دوسری زوجہ کے پاس کیوں تشریف لے گئے یہ غیرت بمعنی رشک ہے نہ بمعنی شرم کہ اس پر شرم کیسی۔(اشعہ)
۲
؎اس طرح کہ میں بھی حضور کے پیچھے پیچھے گئی اور آگے آگے دوڑتی ہوئی آگئی،جب حضور تشریف لائے تو میری سانس پھولی ہوئی تھی،یہ واقعہ پندرھویں شعبان کی عبادات کے موقعہ پر مذکور ہوچکا وہ ہی یہاں مراد ہے۔(اشعہ)
۳
؎سبحان اﷲ!کیا ایمان افروز پیارا جواب ہے یعنی مجھ جیسی محبت والی بی بی آپ جیسے سید المرسلین خاوند پر غیرت یا رشک کیوں نہ کرے،بخل برا ہے مگر آپ پر بخل اچھا ہے۔شعر
نیناں میں جو آن بسو تو نیناں جھانپ ہی لوں نہ میں دیکھو اور کو نا توئے دیکھن دوں
اللہ تعالٰی اس مبارک ماں کے صدقے سے ہم گنہگاروں کو بھی عشق رسول کی رمق عطا فرمائے
؎ذرہ عشق نبی از حق طلب سوز صدیق و علی از حق طلب
۴
؎یعنی تمہاری یہ غیرت شیطانی اثر سے ہے کیونکہ ہم سید الانبیاء ہیں کسی بیوی پر ظلم نہیں فرماتے اگرچہ ہم پر بیویوں کی باریاں واجب نہیں مگر پھر بھی کسی کی باری میں دوسری بیوی کے ہاں بغیر اس کی اجازت نہیں جاتے حضور کا عدل تو اس حد تک ہے کہ مرض وفات شریف میں دوسری بیویوں کی اجازت سے آخری ایام زندگی حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر میں گزارے۔اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کی شان یہ ہے کہ حضور انور نے آپ کے سینہ پر وفات پائی اور آپ کے حجرے میں تاقیامت آرام فرمالیا۔شعر
ان کا سینہ ہے نبی کی آخری آرامگاہ ان کے حجرے میں نبی ہیں تا قیامت جاگزیں
۵
؎اس شیطان سے مراد قرین ہے جو ہر وقت ہر ایک شخص کے ساتھ رہتا ہے ہر ایک انسان کا علیحدہ شیطان ہے۔ آگیا فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ تم کو اس نے فریب دے دیا۔
۶
؎اس عبارت کا یہ ترجمہ نہایت ہی قوی ہے بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ اسلم میم کے پیش سے ہے متکلم مضارع یعنی میں اس کے شر سے سلامت رہتا ہوں،بعض نے فرمایا کہ اسلم ہے تو میم کے فتح سے واحد غائب ماضی مگر معنے کرتے ہیں کہ وہ میرا مطیع ہوگیا اس نے مجھے نیکی سے نہ روکا،لیکن یہ معنی فقیر کے نزدیک قوی نہیں کہ یہ بات تو بہت سے اولیاء ااور عام صحابہ کرام بلکہ عائشہ صدیقہ کو بھی میسر تھی کہ رب کے فضل سے شیطان انہیں بہکا نہیں سکتا،یہاں ایسے خصوصی معنے مراد ہیں جو حضور کی خصوصیات سے ہوں دوسرے کو میسر نہ ہوں وہ یہ ہی ہیں کہ حضور کا قرین شیطان حضور کی صحبت کی برکت سے مؤمن صالح ہو گیا۔جب شیطان جس کی سرشت میں طغیان ہے وہ حضور کے ساتھ رہنے کی برکت سے مؤمن صالح بن گیا تو تمام صحابہ کرام خصوصًا خلفاء راشدین خصوصًا سفروحضر،قبر گھر،حشر،کے ساتھی ابوبکر صدیق کے ایمان و تقویٰ کا کیا پوچھنا محض جس کو رب تعالٰی حضور کا ساتھی فرمارہا ہے۔صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3323