Main Icon

باب:لعان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3321

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لَا مُلَاعَنَةَ بَيْنَهُنَّ: النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ، وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أربع من النساء لا ملاعنة بينهن: النصرانية تحت المسلم، واليهودية تحت المسلم، والحرة تحت المملوك، والمملوكة تحت الحر". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے چار عورتیں جن میں لعان نہیں ۱؎عیسائن مسلمان کے نیچے یہودیہ مسلمان کے نیچے ۲؎اور آزاد عورت غلام کے نیچے اور لونڈی آزاد کے نیچے ۳؎(ابن ماجہ)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر ان عورتوں کے خاوند انہیں زنا کا الزام دیں تو ان کے اور انکے خاوندوں کے درمیان لعان نہ ہوگا یہاںبین ازواجھنپوشیدہ ہے۔
۲
؎خیال رہے کہ اگر الزام زنا لگانے والا خاوند غلام یا کافر ہو یا کبھی تہمت کی سزا پاچکا ہو جسے محدود فی القذف کہتے ہیں تب تو لعان نہ ہوگا مگر خاوند کو تہمت کی سزا اسی۸۰ کوڑے مارے جائیں گے کیونکہ ان صورتوں میں خاوند گواہی کا اہل نہیں اور خاوند تو گواہی کا اہل ہو مگر بیوی اہل نہ ہو مثلًا بیوی لونڈی یا کافرہ یا چھوٹی لڑکی یا مجنونہ یا زانیہ ہو اسے کبھی تہمت کی سزا لگ چکی ہو تو نہ تو لعان ہوگا نہ خاوند کو تہمت کی سزا لگے کیونکہ اس صورت میں لعان کی رکاوٹ عورت کی طرف سے ہے۔(دیکھو فتح القدیر شرح ہدایہ اور مرقات)غرضکہ لعان میں شرط یہ ہے کہ دونوں خاوند بیوی گواہی کے اہل ہوں کیونکہ لعان میں دونوں کی قسمیں مثل گواہی کے ہوتی ہیں۔
۳
؎معلوم ہوا کہ آزاد عورت غلام سے نکاح کرسکتی ہے مگر اپنے غلام سے نہیں دوسرے کے غلام سے ،یہ نہیں ہوسکتا کہ مرد یہودی یا عیسائی ہو اور عورت مسلمان کہ مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر مرد سے نہیں ہوسکتا۔
۴
؎یہ حدیث دار قطنی نے بھی متعدد اسنادوں سے روایت کی اگر تمام اسنادیں ضعیف بھی ہوں تب بھی حدیث لائق عمل ہے کہ تعدد اسناد سے ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3321