Main Icon

باب:لعان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3309

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفِحٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ؟ وَاللّٰهِ لأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللّٰهُ أَغْيَرُ مِنِّي، وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللّٰهِ حَرَّمَ اللّٰهُ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللّٰهِ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ الْمُنْذِرِينَ وَالْمُبَشِّرِينَ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللّٰهِ، وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللّٰهُ الْجَنَّةَ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.

وعن المغيرة قال: قال سعد بن عبادة: لو رأيت رجلا مع امرأتي لضربته بالسيف غير مصفح، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "أتعجبون من غيرة سعد؟ والله لأنا أغير منه، والله أغير مني، ومن أجل غيرة الله حرم الله الفواحش ما ظهر منها وما بطن، ولا أحد أحب إليه العذر من الله، من أجل ذلك بعث المنذرين والمبشرين، ولا أحد أحب إليه المدحة من الله، ومن أجل ذلك وعد الله الجنة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مغیرہ سے فرماتے ہیں فرمایا سعد ابن عبادہ نے اگر میں کسی مرد کو اپنی عورت کے ساتھ دیکھوں تو اسے مار دوں تلوار سے چوڑائی سے نہیں ۱؎یہ خبر رسول اکو پہنچی تو فرمایا کیا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو ۲؎اکی قسم میں ان سے بڑھ کر غیرت مند ہوں ۳؎اور امجھ سے زیادہ غیور ہے اکی غیرت کی وجہ سے کہ انے ظاہر باطن فحش چیزیں حرام فرمادیں ۴؎اور اسے زیادہ کسی کو معذرت پسند نہیں ۵؎اسی لیے انے ڈرانے والے اور بشارت دینے والے بھیجے ۶؎اور ایسا کوئی نہیں ہے جسے اسے زیادہ تعریف پسند ہو ۷؎اسی وجہ سے انے جنت کا وعدہ فرمایا ۸؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں اسے چو ڑی تلوار نہ ماروں جس سے صرف چوٹ لگے بلکہ دھار کی طرف سے ماروں جس سے وہ قتل ہی ہو جائے بعض شارحین نے فرمایا کہ یہغیر مصفح لضربتہکے فاعل کا حال ہے یعنی میں اس زانی سے در گزر نہ کروں بلکہ مار ہی دوں مگر پہلے معنے نہایت ہی موزوں ہیں۔
۲
؎سارے صحابہ کرام ہی غیرت مند تھے مؤمن بے غیرت نہیں ہوتا چہ جائیکہ حضرات صحابہ مگر حضرت سعد بے حد غیور و غیرت مند تھے اس لیے یہ فرمایا گیا لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۳
؎معلوم ہوا کہ حضور تمام صفات کمالیہ میں تمام خلق سے افضل ہیں غیور بادشاہ اپنے نوکروں سے بھیک نہیں منگاتے بڑھاپے میں ان کی پنشن کردیتے ہیں حضور ایسے غیور ہیں کہ اپنے نام لیواؤں دین کے خدمتگاروں اپنے نوکروں چاکروں کو ذلیل نہیں ہونے دیتے ناکاروں کو ایسا نبھاتے ہیں کہسبحان اﷲدیکھو ہم جیسے ناکارہ جنہیں کوئی کوئی ہنر نہ آئے ان کے نام پر کیسے مزے سے پل رہے ہیں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔
تیری غیرت کےنثاراےمرےغیرت والے آہ صد آہ کہ یوں خوار ہو بردہ تیرا
۴
؎رب تعالٰی کی غیرت کے یہ ہی معنی ہیں ورنہ اتعالٰی شرم غیرت کے ظاہری معنے سے پاک ہے ایسے الفاظ میں رب تعالٰی کے لیے ان کے نتائج مراد ہوتے ہیں۔
۵
؎یعنی رب تعالٰی کو بندے کی توبہ بہت ہی پسند ہے،اسی لیے بذریعہ انبیائے کرام پیغام بھیجا کہففروا الی اﷲگنہگاروں اکی طرف بھاگ آؤ پناہ پالو گے۔اسی صفت کے مظہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،اسی کا نتیجہ تھا کہ حضور نے حضرت وحشی ہندہ،ابو سفیان وغیرہ ہم کو معافی دے دی ان حضرات کو معاف کردینا طاقت انسان سے باہر ہے ان کے دروازے پر آنے والا محروم نہیں جاتا۔شعر
لج پال پریت کو توڑت ناہیں
جو بانھ پکڑیں پھر چھوڑت ناہیں
گھر آئے کو خالی موڑت نائیں
۶
؎معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کرام کی بعثت کا اصل منشا بھاگے ہوؤں کو بلانا ہے۔
۷
؎چنانچہ خود رب تعالٰی نے اپنی حمد و ثناء کی حضرات انبیاء و اولیاء حمد الٰہی کرتے رہے بلکہ عالم کا ذرہ ذرہ قطرہ قطرہ حمد الہٰی کرتاہے "وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"یہ سب اس پسندیدگی کا نتیجہ ہے حمد الٰہی بہترین عبادت ہے،اس کے نبیوں ولیوں کی تعریفیں بھی بالواسطہ حمد الٰہی ہی ہے کہ جسے جو ملا اس کی عطا سے ملا نعت و مناقب حمد الٰہی کی طرح عبادت الٰہی ہے۔
۸
؎یعنی دنیا میں حمد الٰہی کرنے والوں سے رب تعالٰی نے جنت کا وعدہ فرمالیا ہے خود جنت میں سوائے حمد الٰہی کے اور کوئی عبادت نہ ہوگی،جنتی لوگ جب آپس میں کلام و گفتگو کریں گے تو آخر میں کہا کریں گےواخر دعوا نا ان الحمدﷲ رب العلمین۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3309