Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2581

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ: (رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الله بن السائب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما بين الركنين: (ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار)رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن سائب سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دو رکنوں کے درمیان فرماتے سنا الٰہی ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچالے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱ ∞؎یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم طواف کی حالت میں رکن یمانی اور رکن اسود کے درمیان ہوتے تو یہ جامع دعا مانگتے تھے کیونکہ اس جگہ ستر۷۰ فرشتے مقرر ہیں جو طواف والے کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں اور یہاں فاصلہ بھی اتنا ہی ہے کہ یہ مختصر دعا پڑھ لی جائے اس لیے سرکار یہاں یہ جامع دعا پڑھتے تھے۔شیخ نے اشعہ میں فرمایا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے بحالت طواف اس دعا کے سواء کوئی اور دعا منقول نہیں۔اب جو طواف کے ساتھ چکروں کی الگ الگ دعائیں مانگی جاتی ہیں وہ سلف صالحین سے منقول ہیں۔اس دعا کی شرح ہم کتاب الدعوات میں کرچکے ہیں،یہاں اتنا سمجھ لو کہ دنیا و آخرت کی بھلائی کی ستر شرحیں کی گئی ہیں مگر مختصر و جامع و لذیذ شرح یہ ہے کہ دنیا کی بھلائی اتباع آقا و اطاعت مولٰی ہے،آخرت کی بھلائی حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا قرب،رب کا دیدارہے اور عذاب نار،حجاب یار ہے،اللّٰه تعالٰی یہ نعمتیں نصیب کرے اور حجاب سے بچائے۔آمین۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2581