Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2577

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَزَلَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِيْ آدَمَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «نزل الحجر الأسود من الجنة وهو أشد بياضا من اللبن فسودته خطايا بني آدم» . رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث حسن صحيح.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ حجر اسود جنت سے آیا ۱؎وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا،اسے آدمیوں کے گناہوں نے سیاہ کردیا ۲؎(احمد،ترمذی) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎حدیث بالکل ظاہری معنی میں ہے بلاوجہ کسی تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں،واقعی یہ پتھر جنت سے آیا۔ہوسکتا ہے کہ وہ گھر جو آدم علیہ السلام کے طواف و سجدوں کے لیے جنت سے آیا تھا جو طوفان نوح کے وقت اٹھالیا گیا اسی کا یہ پتھر ہو جو باقی رکھا گیا یا مستقل طور پر وہاں سے یہ پتھر لایا گیا ہو۔
۲
؎یعنی یہ پتھر شفاف آئینہ یا سیاہی چوس کاغذ کی طرح ہے جیسے شفاف آئینہ گرد و غبار سے میلا اور سیاہی چوس کاغذ گیلے حرفوں پر لگنے سے سیاہ ہوجاتا ہے ایسے ہی یہ پتھر ہم گنہگاروں یا گزشتہ مشرکوں کے ہاتھ لگنے سے برابر سیاہ ہوتا چلا گیا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جب ہمارے گناہوں سے سنگ اسود سیاہ ہوگیا تو گناہوں سے دل بھی میلا ہوجاتا ہے اور بدکاروں گنہگاروں کی صحبت سے اچھے برے بن جاتے ہیں،بروں کی صحبت سے پر ہیز چاہیے،ر ب تعالٰی فرماتاہے فرماتاہے:"فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ"صحبت کی تاثیرضروری ہے۔
۳
؎یہ حدیث احمد،نسائی،ابن عدی،بیہقی،طبرانی وغیرہ نے مختلف اسنادوں سے روایت کی،غرضکہ حدیث بہت قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2577