Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2590

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰه عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وُكِّلَ بِهٖ سَبْعُونَ مَلَكًا» يَعْنِي الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ " فَمَنْ قَالَ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالُوا: آمِينَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «وكل به سبعون ملكا» يعني الركن اليماني " فمن قال: اللهم إني أسألك العفو والعافية في الدنيا والآخرة ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار قالوا: آمين". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر یعنی رکن یمانی پر ستر فرشتے مقرر ہیں ۱؎تو جو کہتا ہے الٰہی میں تجھ سے معافی اور امن و عافیت دینی و دنیاوی مانگتا ہوں ۲؎اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے تو فرشتے کہتے ہیں آمین ۳؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنیبِہٖکی ضمیر کا مرجع ر کن یمانی ہے،یہ تفسیر غالبا ً حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی ہے۔
۲
؎ذُنُوْبْکی معافی عفو ہے اور عیوب کی معافی عافیت یا دنیا میں معافی عفو ہے اور آخرت میں معافی عافیت،رکن یمانی اور سنگِ اسود کے درمیان بحالت طواف یہ دعا ضرور مانگے۔
۳
؎یعنی چونکہ اس جگہ کی دعا پر رکن یمانی والے یہ فرشتے آمین کہتے ہیں اس لیے یہاں جامع دعا مانگنی چاہیے،یہ مطلب نہیں کہ اس دعا پر تو آمین کہتے ہیں اور اگر کوئی اور دعا مانگی جائے تو آمین نہ کہیں۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ طواف کے چکروں میں دعائیں مقرر نہیں کہ فلاں چکر میں یہ دعا مانگے فلاں میں یہ،ہاں بحالت طواف قرآن مجید حضور انور سے ثابت نہیں،بہتر یہ ہے کہ دعائیں ہی مانگے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2590