Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2585

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم وَأَصْحَابَهٗ اعْتَمَرُوا مِنَ الْجِعْرانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا، وَجَعَلُوا أَرْدِيتهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ ثُمَّ قَذَفُوهَا عَلٰى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرٰى. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه اعتمروا من الجعرانة فرملوا بالبيت ثلاثا، وجعلوا أرديتهم تحت آباطهم ثم قذفوها على عواتقهم اليسرى. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کیا ۱؎تو بیت اللّٰه شریف کا تین بار رمل کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے لیا پھر انہیں اپنے بائیں کندھے پر ڈالا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎جعرانہ مکہ معظمہ سے جانب طائف ایک منزل فاصلہ پر ہے وادی حنین سے وھوازن سے متصل اسی جگہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے غزوہ حنین کی غنیمتیں تقسیم فرمائیں اور یہاں سے ہی عمرہ کیا،یہاں سترہ دن یا کچھ کم و بیش قیام فرمایا،اب بھی بعض عشاق مکہ معظمہ سے یہاں آکر عمرہ کا احرام باندھتے ہیں جسے بڑا عمرہ کہتے ہیں،فقیر نے اس مقام کی زیارت کی ہے۔اشعہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ عمرہ راتوں رات کیا تھا،کسی کو اطلاع نہ تھی،صحابہ کرام نے اس کے بعد دوسرے وقت میں عمرہ کیا۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ اضطباع صرف طواف میں کیا جائے گا نہ سعی میں ہوگا نہ کسی اور وقت یہی امام اعظم رحمۃ اللّٰه علیہ کا مذہب ہے،امام شافعی کے ہاں سعی میں اضطباع سنت ہے طواف پر قیاس کرتے ہوئے مگر یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ طواف میں اضطباع رمل کی طرف شجاعت ظاہر کرنے کے لیے تھا،حضور انور نے اور کسی موقع پر نہ اضطباع کیا نہ رمل۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2585