Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2591

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ طَافَ بِالبَيْتِ سَبْعًا وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَكُتِبَ لَهٗ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَرُفِعَ لَهٗ عَشْرُ دَرَجَاتٍ. وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ كَخَائِضِ الْمَاءِ بِرِجْلَيْهِ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " من طاف بالبيت سبعا ولا يتكلم إلا ب: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله محيت عنه عشر سيئات وكتب له عشر حسنات ورفع له عشر درجات. ومن طاف فتكلم وهو في تلك الحال خاض في الرحمة برجليه كخائض الماء برجليه ". رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بیت اللّٰه کا طواف سات چکرکرے اور اس کے سوا اور بات چیت نہ کرے ۱؎کہ اللّٰه پاک ہے،اللّٰه کی تعریف ہے،اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں،اللّٰه بہت بڑا ہے، اللّٰه کے سوا نہ طاقت ہے نہ قوت تو اس کے دس گناہ مٹادیئے جائیں گے اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس درجے بلند ہوں گے ۲؎اور جو شخص طواف کرے اور اسی حالت میں باتیں کرے تو رحمت میں اپنے دونوں پاؤں سے ایسے گھس جائے گا جیسے پانی میں پاؤں سے گھس جاتا ہے ۳؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎نہ دنیاوی بات کرے نہ تلاوت قرآن یا یہ مطلب ہے کہ سوائے اس کے اور کوئی دعا ہی نہ مانگے۔خیال رہے کہ رکن یمانی اور سنگ اسود کا درمیانی فاصلہ اس حکم سے علیحدہ ہے،وہاں وہ دعا مانگے جو ابھی گزر چکی لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں۔
۲
؎یعنی پورے طواف کا یہ فائدہ ہوگا یا ہر چکر کا یا ہر دفعہ یہ دعا پڑھنے کا مگر پہلا احتمال زیادہ قوی ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ اللّٰه کی حمد کرنا بھی دعا ہے،دیکھو ان کلمات میں دعائیہ لفظ ایک بھی نہیں،صرف رب کی حمد و ثناء ہے مگر اس کے اتنے بڑے فائدے ہیں۔خیال رہے کہ یہ فائدے ہم گنہگاروں کے لیے ہیں،بے گناہ بندوں کے لیے تیس درجوں کی بلندی ہوگی۔
۳
؎اس جملے کی بہت شرحیں ہیں۔محقق شرح یہ ہے کہ باتیں کرنے سے مراد یہی کلمات بولنا ہیں،چونکہ ان کلمات کا اب دوسرا فائدہ بیان ہورہا ہے اس لیے اس طرح ارشاد فرمایا،بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ جو شخص طواف میں دنیوی باتیں کرے وہ تو گھٹنوں گھٹنوں دریائے رحمت میں آجاتا ہے اور جو گزشتہ کلمات پڑھے وہ دریائے رحمت میں غوطے لگاتا ہے مگر یہ شرح ضعیف سی ہے کیونکہ مسجد میں خصوصًا طواف میں دنیوی باتیں مکروہ ہیں جن سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں اس پر ثواب کا وعدہ کیسا،حضرت آدم علیہ السلام نے جب بیت اللّٰه کا طواف کیا تو آپ سے فرشتوں نے مصافحہ کرکے عرض کیا کہ ہم دو ہزار سال سے یہاں طواف کررہے ہیں،آپ نے پوچھا کہ تم طواف میں کیا پڑھتے ہو وہ بولےسُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُآپ نے فرمایا کہ ہم اس پر یہ زیادہ کیا کریں گےوَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِتو ۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2591