Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2584

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالبَيْتِ مُضْطَبِعًا بِبُرْدٍ أَخْضَرَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ

وعن يعلى بن أمية قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف بالبيت مضطبعا ببرد أخضر. رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یعلی ابن امیہ سے ۱؎فرماتےہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سبز چادر بغل سے نکالے ہوئے بیتاللّٰهکا طواف کیا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ، دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،غزوہ حنین،طائف و تبوک میں حاضر ہوئے، حضرت عمر کی طرف سے نجران کے حاکم تھے،جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ رہے،اسی جنگ میں شہید ہوئے۔
۲
؎اِضْطِبَاعْکے معنی عرض کیے جاچکے ہیں کہ احرام کی چادر داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر داہنا کندھا کھلا رکھنا اور بایاں کندھا ڈھکا رکھنا،چادر برد یمانی تھی،یہ ہی حضور انور کا محبوب کپڑا تھا۔علماء فرماتے ہیں کہ سبز چادر سے مراد مخطط بسبز ہے نہ کہ خالص سبز کیونکہ نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کبھی خالص سبز یا سرخ کپڑا نہیں پہنا،اضطباعیعنی داہنا کندھا کھولنا صرف اس طواف کے وقت مستحب ہے، بعض حجاج احرام کے وقت سے ہی کندھا کھلا رکھتے ہیں یہ غلط ہے اس طرح نماز مکروہ ہوگی۔(مرقات)بعض وارثی فقراء ہمیشہ احرام کا لباس پہنتے ہیں اس میں حرج نہیں لیکن اضطباع نہ کریں اور نہ ننگے سر رہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2584