Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2587

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُمَا: قَالَ نَافِعٌ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهٖ ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهٗ وَقَالَ: مَا تَرَكْتُهٗ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهٗ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وفي رواية لهما: قال نافع: رأيت ابن عمر يستلم الحجر بيده ثم قبل يده وقال: ما تركته منذ رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

اور ان کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا کہ آپ سنگِ اسود کو اپنا ہاتھ لگاتے پھر ہاتھ چوم لیتے اور فرمایا کہ جب سے میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یہ کرتے دیکھا تب سے کبھی نہ چھوڑا ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی طواف کے کسی چکر میں اس کا بوسہ نہ چھوڑا موقعہ ہوا تو منہ لگا کر چوما،ورنہ ہاتھ لگا کر اور اگر نہ بن پڑا تو اشارہ کرکے۔اس سے معلوم ہوا کہ رکن عراقی و شامی کو نہ چوما جائے گا،یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی سنت پر ہمیشگی کرنا برا نہیں۔بیہقی میں ہے کہ حضرت عبد اللّٰه ابن عباس نے سنگ اسود کو چوما بھی اور اس پر سجدہ بھی کیا اور فرمایا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو سنگ اسود پر سجدہ کرتے دیکھا،جناب عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضور کو اس پر سجدہ کرتے دیکھا،حاکم نے باسناد صحیح حضرت عبداللّٰه ابن عمر سے روایت کی کہ آپ نے سنگ اسود پر پیشانی رکھ کر سجدہ کیا لہذا امام مالک کا یہ فرمانا کہ اس پر سجدہ کرنا بدعت ہے درست نہیں۔(مرقات) ان روایات سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ حضرت فاروق اعظم سنگ اسود کے بوسہ سے ناراض تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2587