Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2582

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي بِنْتُ أَبِي تُجْرَاةَ قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ دَارَ آلِ أَبِي حُسَيْنٍ نَنْظُرُ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْعٰى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَرَأَيْتُهٗ يَسْعٰى وَإِنَّ مِئْزَرَهٗ لَيَدُورُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ وَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: اِسْعَوْا فَإِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ مَعَ اخْتِلَافٍ

وعن صفية بنت شيبة قالت: أخبرتني بنت أبي تجراة قالت: دخلت مع نسوة من قريش دار آل أبي حسين ننظر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يسعى بين الصفا والمروة فرأيته يسعى وإن مئزره ليدور من شدة السعي وسمعته يقول: اسعوا فإن الله كتب عليكم السعي . رواه في شرح السنة ورواه أحمد مع اختلاف

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت صفیہ بنت شیبہ سے ۱؎فرماتي ہیں مجھے ابی تجراۃ کی بیٹی نے خبر دی فرماتی تھیں کہ میں چند قرشی بیبیوں کے ساتھ ابی حسین کے خاندان کے گھر میں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھنے گئی ۲؎جب کہ آپ صفا و مرہ کے درمیان سعی کر رہے تھے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کا تہبند شریف تیز دوڑنے کے باعث گردش کررہا تھا ۳؎اور میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ لوگو سعی کرو اللّٰه نے تم پر سعی واجب کی۴؎(شرح سنہ)اور احمد نے کچھ اختلاف سے روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ صفیہ تابعین میں سے ہیں،ان کا نام صفیہ بنت شیبہ ابن عثمان ابن طلحہ مجبی ہے یعنی عثمان ابن طلحہ جو کعبہ شریف کے کلید بردار ہیں ان کی پوتی ہیں اور بنت ابی تجراۃ کا نام حبیبہ ہے،بنی عبدالدار سے ہیں،تجراۃ ت کے زبر یا پیش سے جیم کے سکون ر کے زبر سے ہے۔
۲
؎آل حسین کا یہ گھر سعی کے کنارے پر تھا جہاں سے سعی بخوبی دیکھی جاسکتی تھی یہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی سعی دیکھنے اس لیے گئیں کہ سعی کا طریقہ سیکھ لیں اور حضور انور کی زیارت سے شرف حاصل کریں جو تمام عبادات سے بہتر عبادت ہے کہ کعبہ کے دیکھنے سے انسان حاجی بنتا ہے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھنے سے صحابی اور ایک صحابی تمام جہان کے حاجیوں غازیوں سے افضل ہے،کوئی شخص صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اٰخَرِیۡنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوۡا بِھِمْ"یعنی دوسرے مسلمان صحابہ کو نہیں مل سکتے۔
۳
؎اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سعی پیدل کی نہ کہ سواری پر،یہ ہی سنت ہے بلا عذر سواری پر سعی کرنا مکروہ و خلاف سنت ہے۔جن روایات میں ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سواری پر سعی کی وہ کسی عمرے میں تھی جو بیماری وغیرہ کسی عذر کی وجہ سے یا لوگوں کی تعلیم کے لیے تھی جیسے حضور انور نے بغرض تعلیم سواری پر طواف بھی کیا۔
۴
؎حج میں سعی امام شافعی و احمد و امام رحمہم اللّٰه تعالٰی کے ہاں فرض ہے کہ اس کے رہ جانے پر حج باطل ہوگا مگر امام اعظم قدس سرہ کے ہاں واجب ہے کہ اس کے رہ جانے پردم واجب ہوگا،ان اماموں کی دلیل یہ حدیث ہے۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث واحد ہے اور خبر واحد سے فرضیت ثابت نہیں ہوتی،بعض علماء کے ہاں سعی نفل ہے،ان کی دلیل یہ آیت ہے"فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا" مگر یہ دلیل کمزور ہے۔(مرقات و لمعات وغیرہ)حضرت ابن عباس،ابن زبیر،انس ابن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم سعی کو نفل ہی مانتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2582