Main Icon

باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5965

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهٖ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ وَهٰذَاأَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذٰلِكَ السَّمِّ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في مرضه الذي مات فيه: «يا عائشة ما أزال أجد ألم الطعام الذي أكلت بخيبر وهذاأوان وجدت انقطاع أبهري من ذلك السم» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے اس مرض میں فرماتے تھےجس میں وفات پائی کہ اے عائشہ میں اس کھانے کا اثرپاتا رہتا ہوں جو میں نے خیبر میں کھایا تھا ۱؎اور یہ وہ وقت ہے کہ میں اپنا دل کی رگ کا ٹوٹنا اس زہر سے محسوس کر رہا ہوں ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک یہودیہ نے بکری کے گوشت میں ہم کو زہر کھلادیا تھا خیبر میں اس وقت سے آج تک ہر سال اس زہر کا اثر ظاہر ہوتا رہتا ہے،اس وقت وفات نہ ہونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا،ہر سال تکلیف ہوتے رہنا حضور کے اجر کی زیادتی کے لیے تھا کہ ہر سال آپ کو تکلیف کا ثواب ملتا رہا ۔
۲
؎أبھریا تو دل کی رگ کو کہتے ہیں یا گردن کی رگ کو،یا وہ شہہ رگ جو سر سے پاؤں تک پھیلی ہوئی ہے۔ان میں سے کسی رگ کا ٹوٹ جانا موت کا باعث ہوتا ہے۔اس وقت وہ زہر لوٹا تاکہ آپ کو شہادت حکمی عطا ہو زہر سے موت شہادت ہے۔ غرضکہ حضور انور کی وفات زہر کے عود کرنے سے ہوئی اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق کی وفات اس وقت سانپ کے زہر لوٹ آنے سے ہوئی جس نے ہجرت کی رات غار میں آپ کو کاٹا تھا،حضرت صدیق کو فنا فی الرسول کا وہ درجہ حاصل ہے کہ آپ کی وفات بھی حضور انور کی وفات کا نمونہ ہے،پیر کے دن میں حضور کی وفات اور پیر کا دن گزار کر شب میں حضرت صدیق کی وفات،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن شب کو چراغ میں تیل نہ تھا حضرت صدیق کی وفات کے وقت گھر میں کفن کے لیے پیسے نہ تھے یہ ہے فنا،رضی الله عنہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5965