- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 5970
باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5970
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَن عَائِشَة أَنَّهَا قَالَتْ: وَارَأسَاهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرُ لَكِ وَأَدْعُو لَكِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاثُكْلَيَاهْ وَاللّٰهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي فَلَوْ كَانَ ذٰلِكَ لَظَلِلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعْرِسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ أَنا وَا رَأسَاهٗ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلٰى أَبِي بَكْرٍ وَاِبْنِهٖ وَأَعْهَدُ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى المُتَمَنُّونَ ثُمَّ قُلْتُ: يَأْبَى اللّٰهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ أَوْ يَدْفَعُ اللّٰهُ وَيَأْبَى المُؤْمِنُونَ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن عائشة أنها قالت: وارأساه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ذاك لو كان وأنا حي فأستغفر لك وأدعو لك» فقالت عائشة: واثكلياه والله إني لأظنك تحب موتي فلو كان ذلك لظللت آخر يومك معرسا ببعض أزواجك فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " بل أنا وا رأساه لقد هممت أو أردت أن أرسل إلى أبي بكر وابنه وأعهد أن يقول القائلون أو يتمنى المتمنون ثم قلت: يأبى الله ويدفع المؤمنون أو يدفع الله ويأبى المؤمنون ". رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انہوں نے کہا ہائے میرا سر تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ ہوگیا اور میں زندہ ہوا تو تمہارے لیے دعائے مغفرت کروں گا ۱؎تو جناب عائشہ بولیں ہائے ہلاکت رب کی قسم میں آپ کے متعلق گمان کرتی ہوں کہ آپ میری موت چاہتے ہیں اگر ایسا ہوگیا تو آپ اس دن کے آخر میں اپنی بعض بیویوں سے آرام فرمائیں گے۲؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ ہائے میرا سر۳؎میں نے قصد یا ارادہ کیا تھا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلاؤں اور ولی عہدکروں اس خطرہ سے کہ کہنے والے کہیں یا تمنا کرنے والے تمنا کریں۴؎پھر میں نے سوچا کہ الله انکار کرے گا اورمسلمان دفع کریں گے یا الله دفع کرے گا اور مسلمان انکارکریں گے ۵؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کے سر میں درد تھا،انہوں نے فرمایا ہائے میرا سر پھٹا جارہا ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اس مرض سے وفات پاگئیں تو ہم تمہارے لیے دعاءمغفرت کریں گے،تمہاری نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ (مرقات)
۲؎یعنی آپ میری موت کے دن ہی مجھے بھول جائیں گے،مجھے دفن کرنے کے بعد اسی دن دوسری بیوی کے ساتھ آرام فرمائیں گے میں اپنی جان سے جاؤں گی،یہ کلام اور یہ شکایت محبوبانہ ہے،پیاروں کی پیاروں سے شکایت کے انداز نرالے ہوتے ہیں۔
۳؎یعنی اے عائشہ تمہارے درد سر کو توان شاءاللهآرام ہوجائے گا۔درد سرابھی ابھی مجھے شروع ہوا ہے،یہ درد مرض وفات کی ابتداء ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ درد سر اصل میں حضور صلی الله علیہ وسلم کو تھا اس کا اثر حضرت عائشہ صدیقہ پر ہوا کہ اس درد کی چمک ان کے سر شریف میں محسوس ہوئی کمال محبت کی وجہ سے جیسے فصد لی لیلی نے اور خون نکلا مجنون عامری کے جسم سے۔(مرقات)اب بھی دیکھا جاتا ہے کہ پردیس میں بیٹا بیمار ہو تو گھر پر ماں کا دل دھڑکتا ہے بلکہ ماں بیمار پڑجاتی ہے، دلی محبت کے انداز نرالے ہیں۔جس امتی کو حضور اب بھی یاد فرماتے ہیں وہ امتی کہیں ہو تڑپنے لگتا ہے جب رب بندے کو عرش پر یاد کرتا ہے تو بندہ رب کی یاد میں دیوانہ ہوتا ہے؎گفت الله گفتت لبیک ماست ایں گداز و سوز و درد از پیک ماست
دل کا دل سے عجیب کنکشن ہوتا ہے خدا کرے دل ان محبوب سے لگ جاوے یہ بہاریں دل کے لگنے کی ہیں۔
۴؎یعنی میرا دل چاہتا ہے کہ ابوبکر صدیق کو ان کے بیٹے عبدالرحمن کے ساتھ ملاکر باقاعدہ ابوبکر کو اپنا خلیفہ جانشین کردوں اور ان کے ولی عہد ہونے کا عبدالرحمن کے گواہ ہونے کا اعلان کردوں۔
۵؎یعنی ابوبکر صدیق کی خلافت کا ارادہ الٰہی ہوچکا ہے وہ میری خلافت کے لیے منتخب ہو چکے ہیں،نیز مسلمانوں کے دل کہیں گے کہ میرے بعد خلیفہ وہ ہی ہوں اس لیے میں ان کی خلافت کا اعلان نہیں کرتا۔خیال رہے کہ حضور انور نے عملی طور پر حضرت صدیق کو اپنا ولی عہد مقرر کردیا تھا کہ اپنے سامنے آپ کو اپنے مصلےٰ پر کھڑا کردیا مسلمانوں کا امام بنادیا یہ امامت گویا آپ کی دستار خلافت تھی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دستار بندی خود کردی تھی،صراحۃً اعلان نہیں کیا تاکہ ولی عہد بنانے کا یہ بھی ایک طریقہ رہے بلکہ حجۃ الوداع سے ایک سال پہلے حج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر کو ہی اپنا نائب بنا کر سورۂ توبہ کے احکام کا اعلان کرنے بھیجا کہ آئندہ سے کوئی مشرک حج نہ کرے کوئی ننگا طواف نہ کرے۔ان امور سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت صدیق کا خلافت کے لیے انتخاب الله کی طرف سے تھا،مسلمانوں کا اس پر اجماع ہوا حضور انور نے اس کی عملی وضاحت فرمادی لہذا اس خلافت کا انکار کفر ہے۔خیال رہے کہ اسلام میں جمہوریت بھی ہے اور شخصیت بھی محض جمہوریت لعنت ہے۔اقبال کہتے ہیں؎گریز از طرز جمہوری غلام مرد کامل شو کہ از مغزود صد خر فکر انسانے نمی آید
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5970