Main Icon

باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5970

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن عَائِشَة أَنَّهَا قَالَتْ: وَارَأسَاهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرُ لَكِ وَأَدْعُو لَكِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاثُكْلَيَاهْ وَاللّٰهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي فَلَوْ كَانَ ذٰلِكَ لَظَلِلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعْرِسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ أَنا وَا رَأسَاهٗ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلٰى أَبِي بَكْرٍ وَاِبْنِهٖ وَأَعْهَدُ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى المُتَمَنُّونَ ثُمَّ قُلْتُ: يَأْبَى اللّٰهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ أَوْ يَدْفَعُ اللّٰهُ وَيَأْبَى المُؤْمِنُونَ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن عائشة أنها قالت: وارأساه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ذاك لو كان وأنا حي فأستغفر لك وأدعو لك» فقالت عائشة: واثكلياه والله إني لأظنك تحب موتي فلو كان ذلك لظللت آخر يومك معرسا ببعض أزواجك فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " بل أنا وا رأساه لقد هممت أو أردت أن أرسل إلى أبي بكر وابنه وأعهد أن يقول القائلون أو يتمنى المتمنون ثم قلت: يأبى الله ويدفع المؤمنون أو يدفع الله ويأبى المؤمنون ". رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انہوں نے کہا ہائے میرا سر تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ ہوگیا اور میں زندہ ہوا تو تمہارے لیے دعائے مغفرت کروں گا ۱؎تو جناب عائشہ بولیں ہائے ہلاکت رب کی قسم میں آپ کے متعلق گمان کرتی ہوں کہ آپ میری موت چاہتے ہیں اگر ایسا ہوگیا تو آپ اس دن کے آخر میں اپنی بعض بیویوں سے آرام فرمائیں گے۲؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ ہائے میرا سر۳؎میں نے قصد یا ارادہ کیا تھا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلاؤں اور ولی عہدکروں اس خطرہ سے کہ کہنے والے کہیں یا تمنا کرنے والے تمنا کریں۴؎پھر میں نے سوچا کہ الله انکار کرے گا اورمسلمان دفع کریں گے یا الله دفع کرے گا اور مسلمان انکارکریں گے ۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کے سر میں درد تھا،انہوں نے فرمایا ہائے میرا سر پھٹا جارہا ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اس مرض سے وفات پاگئیں تو ہم تمہارے لیے دعاءمغفرت کریں گے،تمہاری نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ (مرقات)
۲
؎یعنی آپ میری موت کے دن ہی مجھے بھول جائیں گے،مجھے دفن کرنے کے بعد اسی دن دوسری بیوی کے ساتھ آرام فرمائیں گے میں اپنی جان سے جاؤں گی،یہ کلام اور یہ شکایت محبوبانہ ہے،پیاروں کی پیاروں سے شکایت کے انداز نرالے ہوتے ہیں۔
۳
؎یعنی اے عائشہ تمہارے درد سر کو توان شاءاللهآرام ہوجائے گا۔درد سرابھی ابھی مجھے شروع ہوا ہے،یہ درد مرض وفات کی ابتداء ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ درد سر اصل میں حضور صلی الله علیہ وسلم کو تھا اس کا اثر حضرت عائشہ صدیقہ پر ہوا کہ اس درد کی چمک ان کے سر شریف میں محسوس ہوئی کمال محبت کی وجہ سے جیسے فصد لی لیلی نے اور خون نکلا مجنون عامری کے جسم سے۔(مرقات)اب بھی دیکھا جاتا ہے کہ پردیس میں بیٹا بیمار ہو تو گھر پر ماں کا دل دھڑکتا ہے بلکہ ماں بیمار پڑجاتی ہے، دلی محبت کے انداز نرالے ہیں۔جس امتی کو حضور اب بھی یاد فرماتے ہیں وہ امتی کہیں ہو تڑپنے لگتا ہے جب رب بندے کو عرش پر یاد کرتا ہے تو بندہ رب کی یاد میں دیوانہ ہوتا ہے؎گفت الله گفتت لبیک ماست ایں گداز و سوز و درد از پیک ماست
دل کا دل سے عجیب کنکشن ہوتا ہے خدا کرے دل ان محبوب سے لگ جاوے یہ بہاریں دل کے لگنے کی ہیں۔
۴
؎یعنی میرا دل چاہتا ہے کہ ابوبکر صدیق کو ان کے بیٹے عبدالرحمن کے ساتھ ملاکر باقاعدہ ابوبکر کو اپنا خلیفہ جانشین کردوں اور ان کے ولی عہد ہونے کا عبدالرحمن کے گواہ ہونے کا اعلان کردوں۔
۵
؎یعنی ابوبکر صدیق کی خلافت کا ارادہ الٰہی ہوچکا ہے وہ میری خلافت کے لیے منتخب ہو چکے ہیں،نیز مسلمانوں کے دل کہیں گے کہ میرے بعد خلیفہ وہ ہی ہوں اس لیے میں ان کی خلافت کا اعلان نہیں کرتا۔خیال رہے کہ حضور انور نے عملی طور پر حضرت صدیق کو اپنا ولی عہد مقرر کردیا تھا کہ اپنے سامنے آپ کو اپنے مصلےٰ پر کھڑا کردیا مسلمانوں کا امام بنادیا یہ امامت گویا آپ کی دستار خلافت تھی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دستار بندی خود کردی تھی،صراحۃً اعلان نہیں کیا تاکہ ولی عہد بنانے کا یہ بھی ایک طریقہ رہے بلکہ حجۃ الوداع سے ایک سال پہلے حج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر کو ہی اپنا نائب بنا کر سورۂ توبہ کے احکام کا اعلان کرنے بھیجا کہ آئندہ سے کوئی مشرک حج نہ کرے کوئی ننگا طواف نہ کرے۔ان امور سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت صدیق کا خلافت کے لیے انتخاب الله کی طرف سے تھا،مسلمانوں کا اس پر اجماع ہوا حضور انور نے اس کی عملی وضاحت فرمادی لہذا اس خلافت کا انکار کفر ہے۔خیال رہے کہ اسلام میں جمہوریت بھی ہے اور شخصیت بھی محض جمہوریت لعنت ہے۔اقبال کہتے ہیں؎گریز از طرز جمہوری غلام مرد کامل شو کہ از مغزود صد خر فکر انسانے نمی آید

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5970