Main Icon

باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5957

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى المِنْبَرِ فَقَالَ: «إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللّٰهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهٗ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهٗ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ». فَبَكٰى أَبُو بَكْرٍ قَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَعَجِبْنَا لَهٗ فَقَالَ النَّاسُ: اُنْظُرُوا إِلٰى هٰذَاالشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللّٰهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهٗ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهٗ وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمْنَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جلس على المنبر فقال: «إن عبدا خيره الله بين أن يؤتيه من زهرة الدنيا ما شاء وبين ما عنده فاختار ما عنده». فبكى أبو بكر قال: فديناك بآبائنا وأمهاتنا فعجبنا له فقال الناس: انظروا إلى هذاالشيخ يخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عبد خيره الله بين أن يؤتيه من زهرة الدنيا وبين ما عنده وهو يقول: فديناك بآبائنا وأمهاتنا فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو المخير وكان أبو بكر أعلمنا. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے ۱؎تو فرمایا کہ ایک بندے کو الله نے اس کا اختیار دیا کہ اسے دنیا کی ترو تازگی اتنی عطا کرے جتنی وہ چاہے اور وہ نعمتیں جو اس کے پاس ہیں ۲؎تو اس بندے نے الله کے پاس کی نعمتیں اختیار کرلیں ۳؎حضرت ابوبکر رونے لگے عرض کیا آپ پر ہمارے ماں باپ فدا ۴؎ہم نے ان پر تعجب کیا لوگ بولے ان بزرگ کو تو دیکھو کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تو اس بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے الله نے اختیار دیا کہ اسے دنیا کی سرسبزی دے اور وہ جو اس کے پاس ہے وہ دے اور آپ کہتے ہیں کہ آپ پر ہمارے ماں باپ فدا ہوں۵؎پھر پتہ لگا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہی اختیار دیئے ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق ہم سب میں زیادہ علم والے تھے ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ مرض وفات میں وفات شریف سے پانچ دن پہلے ہوا۔(اشعہ،مرقات)یعنی جمعرات کے دن اور پیر کے دن وفات شریف ہوئی۔
۲
؎یعنی ان بندہ کو رب نے اختیار دیا کہ یا تو وہ دنیا میں بہت دراز عمر اور ہر طرح کا عیش و آرام قبول کریں یا رب تعالٰی کی ملاقات اور آخرت کی نعمتیں اختیار کریں جو ان کی مرضی ہو وہ ہی رب کی طرف سے عطا ہو۔
۳
؎یعنی ان بندے نے دنیا کو چھوڑ دیا آخرت اور وہاں کی نعمتیں اعلیٰ بھی ہیں اور غیر فانی بھی۔(مرقات)
۴
؎یعنی یارسول الله اگر آپ میرے اور میرے ماں باپ کے فدا ہوجانے سے دنیا میں رہنا قبول فرمالیں تو مجھے فدا ہونے قربان ہونے میں کوئی تأمل نہ ہو،میں مع اپنے ماں باپ کے آپ پر قربان ہوجاؤں آپ یہاں سے نہ جاویں۔(مرقات)
۵
؎یعنی حضور انورنے کوئی رونے والی بات فرمائی نہیں حضرت صدیق اکبر روئے کیوں اور فدا ہوجانے پر تیار کیوں ہوئے حضور تو کسی بندے کا ایک واقعہ بیان فرمارہے ہیں اس میں رونے اور فدا ہونے کی کیا بات ہے یہ ہماری سمجھ میں نہ آیا۔
۶
؎یعنی جب پانچ دن کے بعد حضور انور کی وفات ہوئی تب ہم کو پتہ لگا کہ حضور انور نے یہ واقعہ اپنا بیان فرمایا،ایک بندہ سے مراد اپنی ذات مبارکہ تھی یہ راز سوائے حضرت ابوبکر کے کوئی نہ سمجھا اس لیے آپ روئے اور یہ کلمات فرمائے۔معلوم ہوا کہ جناب صدیق اکبر تمام صحابہ اور اہلِ بیت سے بڑے عالم بہت ذکی و فہیم اور سب سے زیادہ مزاج شناس رسول تھے رضی الله عنہ اسی لیے حضور انور نے اپنے مصلے پر آپ کو کھڑا کیا امام وہ ہی بنایا جاتا ہے جو سب سے بڑا عالم ہو،سارے صحابہ میں آپ سب سے بڑے عالم تھے۔ہم نے عرض کیا ہے؎علم میں فضل میں بے شبہ تو سب سے افضل اس امامت سے ترے کھل گئے جوہر صدیق
اس امامت سے کھلا تم ہو امام اکبر تھی یہ ہی رمز نبی کہتے ہیں حیدر صدیق

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5957