Main Icon

باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1210

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَعْلیٰ بْنِ مُمَلَّكٍ أَنَّهٗ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهٖ؟ فَقَالَتْ: وَمَا لَكُمْ وَصَلَاتُهُ؟ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلّٰى ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلّٰى حَتّٰى يُصْبِحَ ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهٗ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا)رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ

وعن يعلی بن مملك أنه سأل أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن قراءة النبي صلى الله عليه وسلم وصلاته؟ فقالت: وما لكم وصلاته؟ كان يصلي ثم ينام قدر ما صلى ثم يصلي قدر ما نام ثم ينام قدر ما صلى حتى يصبح ثم نعتت قراءته فإذا هي تنعت قراءة مفسرة حرفا حرفا)رواه أبو داود والترمذي والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یعلی ابن مملک سے کہ انہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ سے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی قرأت اور نماز کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا کہ تمہیں ان کی نماز سے کیا نسبت ۱؎آپ نماز پڑھتے تھے پھر نماز کے بقدر سوتے تھے پھر سونے کے بعد بقدر نماز پڑھتے تھے پھر نماز کے بقدر سوتے تھے حتی کہ صبح کرتے ۲؎پھر آپ کی قرأت بیان کی تو ایسی قرأت بیان کرنے لگیں ایک ایک حرف صاف جدا ۳؎(ابوداؤد، ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تم میں یہ ہمت و جرات کہاں جو رات میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ سکو اس فرمان کا مقصد یا تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے عمل کی عظمت دکھانا ہے یا موجودہ حضرات پر حسرت کا اظہار ہے کہ ان کی ہمت پہلے کی سی نہ رہی یا پوچھنے والے کو اس پر دلیر کرنا منظور ہے کہ وہ یہ بات سن کر جوش میں آئیں اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی اقتدا کی کوششیں کریں لہذا یہ حدیث روافض کی دلیل نہیں کہ صحابہ نے حضور صلی الله علیہ وسلم کے طریقے چھوڑ دیئے تھے۔
۲
؎تہجد سے پہلے سونا تہجد کے لیئے شرط ہے کہ اس کی بغیر نماز تہجد نہ کہلائے گی اور بعد تہجد سونا سنت ہے۔بہتر یہ ہے کہ سویرا سوتے ہوئے نمودار ہو۔
۳
؎یعنی آپ کی قرأت نہایت آہستگی سے اور صاف تھی جس سے ہر کلمہ جداگانہ سمجھ میں آتا تھا اور ہر کلمہ کے حروف ح،ع،ز،ذ،ط،ض، واضح طور پر سمجھ لیئے جاتے تھے،ایک کلمہ دوسرے سے مخلوط نہ ہوتا تھا تلاوت قرآن کریم کا یہ ہی طریقہ چاہیے زیادہ پڑھنے کی کوشش نہ کرو درست پڑھنے کی کوشش کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1210