Main Icon

باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1196

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ: أَنَّهٗ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُول: (إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ)حَتّٰى خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتّٰى نَفَخَ ثُمَّ فَعَلَ ذٰلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ كُلُّ ذٰلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه: أنه رقد عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستيقظ فتسوك وتوضأ وهو يقول: (إن في خلق السموت والأرض)حتى ختم السورة ثم قام فصلى ركعتين أطال فيهما القيام والركوع والسجود ثم انصرف فنام حتى نفخ ثم فعل ذلك ثلاث مرات ست ركعات كل ذلك يستاك ويتوضأ ويقرأ هؤلاء الآيات ثم أوتر بثلاث. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس سوئے تو آپ بیدار ہوئے مسواک کی اور وضو کیا ۱؎حالانکہ آپ کہتے تھے بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں یہاں تک کہ سورہ ختم کی ۲؎پھر کھڑے ہوئے دور کعتیں پڑھیں جن میں قیام رکوع سجدہ دراز کیا پھر فارغ ہوئے ۳؎تو سوگئے حتی کہ خراٹے لیئے پھر یہ تین بار کیاچھ رکعتیں پڑھیں ۴؎ہر بار مسواک و وضو کرتے تھے اور یہ آیتیں پڑھتے تھے ۵؎پھر تین رکعت وتر پڑھیں ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مرقاۃ میں فرمایا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ وضو تجدید کے لیئے یعنی وضو پر وضو ورنہ آپ کی نیند وضو نہیں توڑتی ہوسکتا ہے کہ آپ کا وضو یہاں دوسری وجہ سے ٹوٹا ہو نہ کہ نیند سے اور مسواک سے مراد یا تو وضو کی مسواک ہے یا وضو سے پہلے کی یعنی جاگنے کی مسواک کیونکہ جاگنے پر مسواک کرنا بھی سنت ہے دوسرا احتمال قوی ہے۔
۲
؎پچھلی حدیث سے معلوم ہوا کہ ان آیات کی تلاوت وضو سے پہلے کی اس میں ہے کہ دوران وضو میں کی،ہوسکتا ہے کہ واقعات چند ہوں،وہاں اور واقعہ کا ذکر تھا،یہاں دوسرے واقعہ کا یا وہاں عطف رتبی تراخی کے لیئے تھا نہ کہ زمانی تراخی کے لیئے۔
۳
؎صرف دو رکعتیں پڑھیں مگر دوسری نمازوں سے زیادہ دراز اور سو گئے۔
۴
؎یعنی ایک شب میں تین بار بیدار ہوئے ہر بار میں دو رکعتیں تو نماز تہجد کل چھ رکعتیں ہوئیں۔خیال رہے کہ کبھی حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے ایک ہی بار پوری تہجد پڑھی اور کبھی بار بار جاگ کر لہذا یہ حدیث پچھلی روایت کے خلاف نہیں۔
۵
؎اس کی تحقیق پہلے ہوچکی کہ یہ بار بار وضو فرمانا استحبابًاتھا یا وجوبًا دوسری وجہ سے ورنہ آپ کی نیند وضو نہیں توڑتی۔
۶
؎اور وتروں کے لیئے چوتھی بار نہ جاگے بلکہ تیسری بار میں ہی دو رکعتیں تہجد اور تین رکعت وتر پڑھ لیئے اسی لیئے یہاں سونے اور جاگنے کا ذکر نہ فرمایا،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ وتر تین رکعت ہیں نہ کہ ایک۔ خیال رہے کہ یہاں ب صلہ کی ہے اوراَوتَرَ بِوَاحِدَۃٍمیںباستعانت کی تھی۔یہاں یہ معنی ہیں کہ تین رکعت وتر پڑھیں وہاں یہ معنی تھا کہ ایک رکعت کے ذریعہ اپنی نماز کو وتر یعنی طاق بنایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1196