- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1195
باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1195
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فَتَحَدَّثَ رَسُولُِاللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهٖ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهٗ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَرَأَ: (إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَ اخْتِلَافِ اللَّيْل وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَاب " حَتّٰى خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ إِلَى القَرْیَةِ فَأَطْلَقَ شَنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يَكْثُرْ وَقَدْ أَبْلَغَ فَقَامَ فَصَلّٰى فَقُمْتُ وَتَوَضَّأْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهٖ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهٖ فَتَتَامَّتْ صَلَاتُهٗ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتّٰى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَآذَنَهٗ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلّٰى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ فِي دُعَائِهٖ: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وتَحْتِيْ نُوْرًا وَأَمَامِيْ نُوْرًا وَخَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا» وَزَادَ بَعْضُهُمْ: «وَفِي لِسَانِي نُورًا» وَذَكَرَ: " وَعَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشِعَرِي وَبُشْرِي) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا : «وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» وَفِي أُخْرٰى لِمُسْلِمٍ: «اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا»
وعن ابن عباس قال: بت عند خالتي ميمونة ليلة والنبي صلى الله عليه وسلم عندها فتحدث رسولالله صلى الله عليه وسلم مع أهله ساعة ثم رقد فلما كان ثلث الليل الآخر أو بعضه قعد فنظر إلى السماء فقرأ: (إن في خلق السموت والأرض و اختلاف الليل والنهار لايت لأولي الألباب " حتى ختم السورة ثم قام إلى القریة فأطلق شناقها ثم صب في الجفنة ثم توضأ وضوءا حسنا بين الوضوءين لم يكثر وقد أبلغ فقام فصلى فقمت وتوضأت فقمت عن يساره فأخذ بأذني فأدارني عن يمينه فتتامت صلاته ثلاث عشرة ركعة ثم اضطجع فنام حتى نفخ وكان إذا نام نفخ فآذنه بلال بالصلاة فصلى ولم يتوضأ وكان في دعائه: «اللهم اجعل في قلبي نورا وفي بصري نورا وفي سمعي نورا وعن يميني نورا وعن يساري نورا وفوقي نورا وتحتي نورا وأمامي نورا وخلفي نورا واجعل لي نورا» وزاد بعضهم: «وفي لساني نورا» وذكر: " وعصبي ولحمي ودمي وشعري وبشري) (متفق عليه)وفي رواية لهما : «واجعل في نفسي نورا وأعظم لي نورا» وفي أخرى لمسلم: «اللهم أعطني نورا»
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ کے پاس ایک رات گزاری جب کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ان کے پاس تھے ۱؎تو حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے کچھ دیر اپنے گھر والوں سے بات چیت کی پھر سوگئے ۲؎توجب آخری تہائی رات ہوئی یا اس کا کچھ حصہ ۳؎تو اٹھ بیٹھے آسمان کو دیکھا اور یہ آیت پڑھی بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن رات کے بدلنے میں عقل والوں کے لیئے نشانیاں ہیں حتی کہ سورہ ختم کردی۴؎پھر مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے تو اس کی ڈوری کھولی پھر پیالے میں پانی انڈیلا پھر بہت اچھا درمیانی وضو کیا جس میں پانی زیادہ خرچ نہ کیا مگر ہر عضو پر پہنچادیا ۵؎پھر کھڑے ہوئے تو نماز پڑھی میں بھی اٹھ بیٹھا اور میں نے وضو کیا اور آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرا کان پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف گھمالیا ۶؎آپ کی نماز پوری تیرہ رکعتیں ہوئی،پھر لیٹ گئے سو گئے حتی کہ خراٹے لیئے اور آپ جب سوتے خراٹے لیتے تھے ۷؎پھر آپ کو حضرت بلال نے نماز کی اطلاع دی تو نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۸؎اور آپ کی دعا میں یہ تھا الٰہی میرے دل میں نور اور میری آنکھوں میں نور میرے کانوں میں نور ۹؎میرے دائیں نور میرے بائیں نور،میرے اوپر نور میرے نیچے نور میرے آگے نور میرے پیچھے نور کردے اور مجھے نور بنادے ۱۰؎بعض محدثین نے یہ بھی زیادہ کیا کہ میری زبان میں نور اور پٹھے گوشت خون بال کھال کا بھی ذکر کیا۔(مسلم،بخاری)اور ان کی ایک روایت میں ہے ۱۱؎کہ میرے دل میں نور کر اور میرا نور بڑھا اور مسلم کی دوسری روایت میں ہے الٰہی مجھے نور دے۔
شرح حدیث
۱∞؎یعنی اس دن حضرت میمونہ رضی الله عنھا کی باری تھی حضور صلی الله علیہ وسلم کا وہاں قیام تھا،حضرت ابن عباس کا وہاں آج رات ٹھہرنا بھی اسی نیت سے تھا کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے رات کے اعمال کا نظارہ کرلیں(واہ رے قسمت والو)۔
۲؎یہ گفتگو دینی تھی یا دنیاوی مگر مختصر تھی،جن روایات میں ہے کہ بعد عشاء حضور صلی الله علیہ وسلم گفتگو ناپسند فرماتے تھے وہ دراز گفتگو ہے جس سے نماز فجر میں خلل واقع ہو لہذا احادیث متعارض نہیں جو چیز فرض یا واجب میں حارج ہو وہ ممنوع ہے۔معلوم ہوا کہ بیوی سے کچھ بات چیت کرنا بھی حسن اخلاق سے ہے اس سے اس کا دل خوش ہوتا ہے۔
۳؎یعنی رات کا آخری چھٹا حصہ،یہ وقت بہت برکت والا اور قبولیت دعا والا ہے۔
۴؎بعض روایات میں ہے کہ پانچ آیات پڑھیں"اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیۡعَادَ" تک ہوسکتا ہے کہ کبھی آخری سورۃ تک پڑھی ہوں اور کبھی پانچ آیات لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۵؎یہ درمیانی وضو کی تفسیر ہے یعنی اگرچہ پانی کم خرچ کیا مگر ہر عضو پر پانی بہہ گیا کوئی جگہ خشک نہ رہی۔
۶؎کیونکہ مقتدی اگر ایک ہو تو امام کے برابر داہنی طرف کھڑا ہو۔خیال رہے کہ اس گھمانے کی شرح پہلے گزرچکی ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے ایک ہاتھ سے آپ کو اپنے پیچھے سے گھمایا اس طرح کہ آپ کے اس گھومنے میں تین قدم متواتر نہ پڑے لہذا اس پر یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ نماز میں گھمانا اور گھومنا عمل کثیر ہے اور عمل کثیر سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
۷؎یہ خراٹے کسی عارضہ یا بیماری کی وجہ سے نہ تھے بلکہ عادت کریمہ تھی خراٹے نیند کامل ہونے کی علامت ہیں۔خیال رہے کہ یہ خراٹے ایسے سخت نہ تھے کہ دوسروں کو تکلیف ہو بلکہ بہت ہلکے تھے اسی لیئےنفخفرمایا یعنی پھونکنا یا سانس بلند لیا۔
۸؎کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی نیند وضو نہیں توڑتی۔وجہ ظاہر ہے کہ نیند وضو توڑتی ہے غفلت کی وجہ سے کہ خبر نہیں رہتی ہوا خارج ہوئی یا نہیں۔حضور صلی الله علیہ وسلم کی نیند غفلت پیدا ہی نہیں کرتی پھر وضو توڑنے کا سوال ہی نہیں،یہ وضو نہ توڑنا حضور صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیات سے ہے جیسے شہید کی موت غسل نہیں توڑتی یہ شہید کی خصوصیت ہے۔
۹؎یہ دعا یا تو سنت فجر کے بعد فرض سے پہلے پڑھی یا گھر سے مسجد تشریف لے جاتے ہوئے یا نماز تہجد سے پہلے شارحین نے تینوں احتمال لیئے۔
۱۰؎اسے دعائے تحویل بھی کہتے ہیں اور دعائے نور بھی۔محدثین نے اس دعا کے بڑے فضائل بیان کیے ہیں حتی کہ شیخ شہاب الدین سہروردی نے فرمایا کہ جو شخص ہمیشہ تہجد میں یہ دعا پڑھا کرے اسے بہت برکتیں اور نورانیت نصیب ہوگی۔(عوارف)خیال رہے کہ یہ دعا امت کی تعلیم کے لیئے ہے ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم خود نور ہیں ایسے نور کہ جس پر نگاہ کرم فرمادیں اسے نورانی بنادیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"قَدْ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ" اور فرماتا ہے:"وَسِرَاجًا مُّنِیۡرًا"یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم کو نورانی بنانے والا سورج بنا کر رب نے بھیجا ۔جو لوگ حضور صلی الله علیہ وسلم کی نورانیت کا انکار کرتے ہیں وہ اس دعا میں غور کریں کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی یہ دعا ضرور قبول ہوئی لہذا حضور صلی الله علیہ وسلم خود بھی نور ہیں اور ہر چھ طرف سے نور میں گھرے ہوئے یعنینُوْرٌ عَلٰی نُوْرٌہیں اگر یہ دعا حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے لیئے مانگی ہے تو زیادتی نور مراد ہوگی،بعض روایت میں "وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا" ہے اور یہاں "وَاجْعَلْ لِیْ نُوْرًا"آیا دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی مجھے نور بنادے۔
۱۱؎یہ ساری دعا کی شرح ہے یعنی الٰہی تو نے مجھے اپنے کرم سے نور تو بنایا ہی ہے میرے نور میں اضافہ اور زیادتی فرمادے جیسے رب نے ارشاد فرمایا:"وَ قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا"اے محبوب عرض کرو کہ میرا مولیٰ میرے علم بڑھا دے۔خیال رہے کہ نور میں زیادتی کمی مقدار کی نہیں ہوتی کیفیت کی ہوتی ہے،چراغ کے نور سے گیس و بجلی کا نور زیادہ اور ان کے نور سے سورج کا نور کہیں زیادہ ہے۔حضور صلی الله علیہ وسلم کی نورانیت سورج سے کہیں زیادہ کہ سورج صرف سامنے والے کے ظاہر کو چمکاتا ہے حضور صلی الله علیہ وسلم تو غاروں پہاڑوں میں رہنے والوں کے دل و جگر کو بھی جگمگادیتے ہیں۔کونسی وہ جگہ ہے جہاں اس آفتاب نبوت کا نور نہیں پہنچتا صلی الله علیہ وسلم۔ خیال رہے کہ پاور ہاؤس سے پاور یکساں آتی ہے مگر اس سے نو رلینے والے قمقمے اپنی طاقت کی بقدر نور لیتے ہیں،سو واٹ کا قمقمہ زیادہ نور لیتا ہے،دس واٹ کا کم،ایسے ہی صحابہ،تابعین،اولیاء،علماء نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے مختلف نوعیت کے نور لیئے یہ اختلاف ان کے لینے میں ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کی دین یکساں ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1195