Main Icon

باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1195

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فَتَحَدَّثَ رَسُولُِاللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهٖ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهٗ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَرَأَ: (إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَ اخْتِلَافِ اللَّيْل وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَاب " حَتّٰى خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ إِلَى القَرْیَةِ فَأَطْلَقَ شَنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يَكْثُرْ وَقَدْ أَبْلَغَ فَقَامَ فَصَلّٰى فَقُمْتُ وَتَوَضَّأْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهٖ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهٖ فَتَتَامَّتْ صَلَاتُهٗ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتّٰى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَآذَنَهٗ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلّٰى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ فِي دُعَائِهٖ: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وتَحْتِيْ نُوْرًا وَأَمَامِيْ نُوْرًا وَخَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا» وَزَادَ بَعْضُهُمْ: «وَفِي لِسَانِي نُورًا» وَذَكَرَ: " وَعَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشِعَرِي وَبُشْرِي) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا : «وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» وَفِي أُخْرٰى لِمُسْلِمٍ: «اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا»

وعن ابن عباس قال: بت عند خالتي ميمونة ليلة والنبي صلى الله عليه وسلم عندها فتحدث رسولالله صلى الله عليه وسلم مع أهله ساعة ثم رقد فلما كان ثلث الليل الآخر أو بعضه قعد فنظر إلى السماء فقرأ: (إن في خلق السموت والأرض و اختلاف الليل والنهار لايت لأولي الألباب " حتى ختم السورة ثم قام إلى القریة فأطلق شناقها ثم صب في الجفنة ثم توضأ وضوءا حسنا بين الوضوءين لم يكثر وقد أبلغ فقام فصلى فقمت وتوضأت فقمت عن يساره فأخذ بأذني فأدارني عن يمينه فتتامت صلاته ثلاث عشرة ركعة ثم اضطجع فنام حتى نفخ وكان إذا نام نفخ فآذنه بلال بالصلاة فصلى ولم يتوضأ وكان في دعائه: «اللهم اجعل في قلبي نورا وفي بصري نورا وفي سمعي نورا وعن يميني نورا وعن يساري نورا وفوقي نورا وتحتي نورا وأمامي نورا وخلفي نورا واجعل لي نورا» وزاد بعضهم: «وفي لساني نورا» وذكر: " وعصبي ولحمي ودمي وشعري وبشري) (متفق عليه)وفي رواية لهما : «واجعل في نفسي نورا وأعظم لي نورا» وفي أخرى لمسلم: «اللهم أعطني نورا»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ کے پاس ایک رات گزاری جب کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ان کے پاس تھے ۱؎تو حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے کچھ دیر اپنے گھر والوں سے بات چیت کی پھر سوگئے ۲؎توجب آخری تہائی رات ہوئی یا اس کا کچھ حصہ ۳؎تو اٹھ بیٹھے آسمان کو دیکھا اور یہ آیت پڑھی بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن رات کے بدلنے میں عقل والوں کے لیئے نشانیاں ہیں حتی کہ سورہ ختم کردی۴؎پھر مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے تو اس کی ڈوری کھولی پھر پیالے میں پانی انڈیلا پھر بہت اچھا درمیانی وضو کیا جس میں پانی زیادہ خرچ نہ کیا مگر ہر عضو پر پہنچادیا ۵؎پھر کھڑے ہوئے تو نماز پڑھی میں بھی اٹھ بیٹھا اور میں نے وضو کیا اور آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرا کان پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف گھمالیا ۶؎آپ کی نماز پوری تیرہ رکعتیں ہوئی،پھر لیٹ گئے سو گئے حتی کہ خراٹے لیئے اور آپ جب سوتے خراٹے لیتے تھے ۷؎پھر آپ کو حضرت بلال نے نماز کی اطلاع دی تو نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۸؎اور آپ کی دعا میں یہ تھا الٰہی میرے دل میں نور اور میری آنکھوں میں نور میرے کانوں میں نور ۹؎میرے دائیں نور میرے بائیں نور،میرے اوپر نور میرے نیچے نور میرے آگے نور میرے پیچھے نور کردے اور مجھے نور بنادے ۱۰؎بعض محدثین نے یہ بھی زیادہ کیا کہ میری زبان میں نور اور پٹھے گوشت خون بال کھال کا بھی ذکر کیا۔(مسلم،بخاری)اور ان کی ایک روایت میں ہے ۱۱؎کہ میرے دل میں نور کر اور میرا نور بڑھا اور مسلم کی دوسری روایت میں ہے الٰہی مجھے نور دے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس دن حضرت میمونہ رضی الله عنھا کی باری تھی حضور صلی الله علیہ وسلم کا وہاں قیام تھا،حضرت ابن عباس کا وہاں آج رات ٹھہرنا بھی اسی نیت سے تھا کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے رات کے اعمال کا نظارہ کرلیں(واہ رے قسمت والو)۔
۲
؎یہ گفتگو دینی تھی یا دنیاوی مگر مختصر تھی،جن روایات میں ہے کہ بعد عشاء حضور صلی الله علیہ وسلم گفتگو ناپسند فرماتے تھے وہ دراز گفتگو ہے جس سے نماز فجر میں خلل واقع ہو لہذا احادیث متعارض نہیں جو چیز فرض یا واجب میں حارج ہو وہ ممنوع ہے۔معلوم ہوا کہ بیوی سے کچھ بات چیت کرنا بھی حسن اخلاق سے ہے اس سے اس کا دل خوش ہوتا ہے۔
۳
؎یعنی رات کا آخری چھٹا حصہ،یہ وقت بہت برکت والا اور قبولیت دعا والا ہے۔
۴
؎بعض روایات میں ہے کہ پانچ آیات پڑھیں"اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیۡعَادَ" تک ہوسکتا ہے کہ کبھی آخری سورۃ تک پڑھی ہوں اور کبھی پانچ آیات لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۵
؎یہ درمیانی وضو کی تفسیر ہے یعنی اگرچہ پانی کم خرچ کیا مگر ہر عضو پر پانی بہہ گیا کوئی جگہ خشک نہ رہی۔
۶
؎کیونکہ مقتدی اگر ایک ہو تو امام کے برابر داہنی طرف کھڑا ہو۔خیال رہے کہ اس گھمانے کی شرح پہلے گزرچکی ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے ایک ہاتھ سے آپ کو اپنے پیچھے سے گھمایا اس طرح کہ آپ کے اس گھومنے میں تین قدم متواتر نہ پڑے لہذا اس پر یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ نماز میں گھمانا اور گھومنا عمل کثیر ہے اور عمل کثیر سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
۷
؎یہ خراٹے کسی عارضہ یا بیماری کی وجہ سے نہ تھے بلکہ عادت کریمہ تھی خراٹے نیند کامل ہونے کی علامت ہیں۔خیال رہے کہ یہ خراٹے ایسے سخت نہ تھے کہ دوسروں کو تکلیف ہو بلکہ بہت ہلکے تھے اسی لیئےنفخفرمایا یعنی پھونکنا یا سانس بلند لیا۔
۸
؎کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی نیند وضو نہیں توڑتی۔وجہ ظاہر ہے کہ نیند وضو توڑتی ہے غفلت کی وجہ سے کہ خبر نہیں رہتی ہوا خارج ہوئی یا نہیں۔حضور صلی الله علیہ وسلم کی نیند غفلت پیدا ہی نہیں کرتی پھر وضو توڑنے کا سوال ہی نہیں،یہ وضو نہ توڑنا حضور صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیات سے ہے جیسے شہید کی موت غسل نہیں توڑتی یہ شہید کی خصوصیت ہے۔
۹
؎یہ دعا یا تو سنت فجر کے بعد فرض سے پہلے پڑھی یا گھر سے مسجد تشریف لے جاتے ہوئے یا نماز تہجد سے پہلے شارحین نے تینوں احتمال لیئے۔
۱۰
؎اسے دعائے تحویل بھی کہتے ہیں اور دعائے نور بھی۔محدثین نے اس دعا کے بڑے فضائل بیان کیے ہیں حتی کہ شیخ شہاب الدین سہروردی نے فرمایا کہ جو شخص ہمیشہ تہجد میں یہ دعا پڑھا کرے اسے بہت برکتیں اور نورانیت نصیب ہوگی۔(عوارف)خیال رہے کہ یہ دعا امت کی تعلیم کے لیئے ہے ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم خود نور ہیں ایسے نور کہ جس پر نگاہ کرم فرمادیں اسے نورانی بنادیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"قَدْ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ" اور فرماتا ہے:"وَسِرَاجًا مُّنِیۡرًا"یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم کو نورانی بنانے والا سورج بنا کر رب نے بھیجا ۔جو لوگ حضور صلی الله علیہ وسلم کی نورانیت کا انکار کرتے ہیں وہ اس دعا میں غور کریں کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی یہ دعا ضرور قبول ہوئی لہذا حضور صلی الله علیہ وسلم خود بھی نور ہیں اور ہر چھ طرف سے نور میں گھرے ہوئے یعنینُوْرٌ عَلٰی نُوْرٌہیں اگر یہ دعا حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے لیئے مانگی ہے تو زیادتی نور مراد ہوگی،بعض روایت میں "وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا" ہے اور یہاں "وَاجْعَلْ لِیْ نُوْرًا"آیا دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی مجھے نور بنادے۔
۱۱
؎یہ ساری دعا کی شرح ہے یعنی الٰہی تو نے مجھے اپنے کرم سے نور تو بنایا ہی ہے میرے نور میں اضافہ اور زیادتی فرمادے جیسے رب نے ارشاد فرمایا:"وَ قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا"اے محبوب عرض کرو کہ میرا مولیٰ میرے علم بڑھا دے۔خیال رہے کہ نور میں زیادتی کمی مقدار کی نہیں ہوتی کیفیت کی ہوتی ہے،چراغ کے نور سے گیس و بجلی کا نور زیادہ اور ان کے نور سے سورج کا نور کہیں زیادہ ہے۔حضور صلی الله علیہ وسلم کی نورانیت سورج سے کہیں زیادہ کہ سورج صرف سامنے والے کے ظاہر کو چمکاتا ہے حضور صلی الله علیہ وسلم تو غاروں پہاڑوں میں رہنے والوں کے دل و جگر کو بھی جگمگادیتے ہیں۔کونسی وہ جگہ ہے جہاں اس آفتاب نبوت کا نور نہیں پہنچتا صلی الله علیہ وسلم۔ خیال رہے کہ پاور ہاؤس سے پاور یکساں آتی ہے مگر اس سے نو رلینے والے قمقمے اپنی طاقت کی بقدر نور لیتے ہیں،سو واٹ کا قمقمہ زیادہ نور لیتا ہے،دس واٹ کا کم،ایسے ہی صحابہ،تابعین،اولیاء،علماء نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے مختلف نوعیت کے نور لیئے یہ اختلاف ان کے لینے میں ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کی دین یکساں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1195