Main Icon

باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1205

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى أَصْبَحَ بِآيَةٍ وَالْآيَةُ: (إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْعِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإنَّك أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ) رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي ذر رضي الله عنه قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أصبح بآية والآية: (إن تعذبهم فإنهمعبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم) رواه النسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے قیام فرمایا حتٰی کہ ایک آیت پر صبح ہوگئی ۱؎یہ آیت تھی اگر تو اسے عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے ۲؎(نسائی۔ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب نماز تہجد کے لیئے جاگے اور سورۂ فاتحہ سے فارغ ہو کر یہ رکوع پڑھا تو اس آیت کو سینکڑوں بار پڑھا حتی کہ وقت صبح بالکل ہی قریب آگیا کہ سلام پھیریں اور صبح ہوجائے لہذا اس حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ تمام رات جاگنا بہتر نہیں اور نہ یہ کہ طلوع فجر پر نفل منع ہیں۔
۲
؎یہ سورۂ مائدہ کی آیت ہے قیامت میں عیسیٰ علیہ السلام بارگاہ الٰہی میں اپنی قوم کے متعلق یہ عرض کریں گے،حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ آیت بار بار پڑھنا اپنی امت کی شفاعت کے لیئے ہے یعنی عین نماز و مناجات میں ہی امت کی شفاعت بھی فرمارہے ہیں۔ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ نماز میں آیت یا سورۃ کی تکرار بلا کراہت جائز ہے حتی کہ سورۂ فاتحہ کی تکرار بھی جائز ہے۔احناف کے ہاں سورۂ فاتحہ کی تکرار ممنوع ہے اگر اس کا اکثر حصہ مکرر کیا تو سجدۂ سہو واجب،مگر شیخ عبدالحق نے اشعہ میں فرمایا کہ میں نے شیخ سے پوچھا کہ اگر "اِھۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ" پر لطف آجاوے اور اسے مکرر پڑھے تو کیا حکم ہے فرمایا فرائض میں نہ کرے نوافل میں کرسکتے ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1205