Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3046

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتّٰى.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يتوارث أهل ملتين شتى.رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ دو مختلف دین والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ )

شرح حدیث

۱∞؎شتّٰی شتیتسے بنا بمعنی متفرق،حق یہ ہے کہشتّٰی ملّتینکی صفت ہے نہ کہاھلکی۔مختلف دین سے مراد کفر و اسلام ہے اس کی شرح ابھی گزری ہوئی پہلی حدیث ہے جس میں ارشاد ہوا کہ کافر مؤمن کا وارث نہیں،یہ امام اعظم کا قول ہے مگر امام شافعی کے ہاں یہ حدیث بالکل ظاہر پر ہے،وہ اس حدیث کی بنا پر فرماتے ہیں کہ یہودی عیسائی کا وارث نہیں اور عیسائی یہودی کا وارث نہیں،یوں ہی مشرک مجوسی اور مجوسی مشرک کا وارث نہیں،بعض علماء نے فرمایا کہ اہل کتاب تو ایک دوسرے کے وارث ہیں مگر مشرک مجوسی اوراہل کتاب ایک دوسرے کے وارث نہیں لہذا عیسائی،یہودی کی میراث مجوسی یا بت پرست نہیں پائے گا،وہ حضراتملتینکے معنی آسمانی اور غیر آسمانی دین کرتے ہیں مگر مذہب احناف قوی ہے،اولًا تو اس لیے کہ اس حدیث کی شرح خود حضور انور نے فرمادی کہ کافر مؤمن کا اور مؤمن کافر کا وارث نہیں،خود صاحب حدیث کی شرح دوسری شرحوں سے اعلٰی ہے۔دوسرے یہ کہ حضور نے فرمادیاالکفر ملّۃ واحدۃکفر ایک ہی دین ہے،تو دنیا میں دو ہی دین ہوئے کفر یا اسلام،انہیںملّتینفرمانا بالکل درست ہوا۔خیال رہے کہ مانعِ میراث چار چیزیں ہیں:اختلاف دین،اختلاف ملک(مگر کفار کے لیے)قتل عبدیت۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3046