Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3057

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الآيَةَ: {مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ} رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضٰى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ الرَّجُلُ يَرِثُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهٖ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيُّ: قَالَ: «الْإِخْوَةُ مِنَ الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ. . .» إِلٰى آخِرِهٖ

وعن علي قال: إنكم تقرؤون هذه الآية: {من بعد وصية يوصي بها أو دين} رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بالدين قبل الوصية وأن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات الرجل يرث أخاه لأبيه وأمه دون أخيه لأبيه ". رواه الترمذي وابن ماجه وفي رواية الدارمي: قال: «الإخوة من الأم يتوارثون دون بني العلات. . .» إلى آخره

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرمایا تم یہ آیت پڑھتے ہو کہ تمہاری کی ہوئی وصیت کے یا قرض کے بعد،حالانکہ رسولاللّٰهصلى الله عليه وسلم نے قرض کا وصیت سے پہلے حکم دیا ہے ۱؎اور حکم دیا ہے کہ ماں والی اولاد وارث ہوگی نہ کہ علاتی اولاد ۲؎آدمی اپنے حقیقی بھائی کا وارث ہوگا نہ کہ علاتی بھائی گا۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور دارمی کی روایت میں یوں ہے کہ ماں جائے بھائی بہن آپس میں وارث ہوں گے نہ کہ علاتی بھائی،الخ ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎خلاصہ یہ ہے کہ آیت کریمہ میںوصیۃکا ذکر قرض سے پہلے فرمایا گیا کہ ارشاد باری میں پہلے وصیت ہے پھر قرض مگر حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ادائے قرض کو وصیت پر مقدم فرمایا کہ تجہیز و تکفین کے بعد میت کا قرض ادا کرو پھر بعد ادائے قرض تہائی مال سے وصیت جاری کرو،پھر میراث تقسیم کرو،حضور انور کا یہ عمل قرآن کریم کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تفسیر ہے جس سے بتادیا گیا کہ قرض ذکر میں پیچھے ہے مگر عمل میں پہلے،چونکہ وارثوں پر وصیت پوری کرنا شاق گزرتا ہے،قرض شوق سے ادا کر دیتے ہیں اس لیے اہتمامًا پہلے وصیت کا ذکر فرمایا۔
۲
؎اعیانجمععینکی ہے بمعنی ذات اور بنی ام سے مراد اخیافی اولاد نہیں بلکہ حقیقی بھائی مراد ہیں یعنی جو مال میں بھی شریک ہوں۔مطلب یہ ہے کہ جس میت سے سگے بھائی بھی ہوں اور باپ شریکے بھی تو سگے بھائی میراث پائیں گے،باپ شریکے نہ پائیں گے کہ سگوں کو قوت قرابت حاصل ہے اسی لیے آپ نے اخیافی نہ فرمایا بلکہ اعیان بنی ام فرمایا اتنی دراز عبارت۔(مرقات و لمعات و اشعہ وغیرہ)لہذا قرآن شریف میں جو لفظاخوۃارشاد ہوا اس سے دھوکا نہ کھائیے اور اس سے سارے بھائی نہ سمجھ لیجئے سگے ہوں یا سوتیلے۔
۳
؎یہ جملہ گزشتہ کلام کی شرح ہے۔لِاَبِیْہ وَاُمِّہٖفرماکر بتادیا کہ وہاںبنی الامسے مراد ماں میں بھی شریک تھے نہ کہ ماں میں ہی شریک،دیکھو حضرت ہارون نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایااِبْنَ اُمِّاے میرے ماں جائے حالانکہ آپ حضرت ہارون کے سگے بھائی تھے۔
۴
؎اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے کہ سگے بھائی بہن سوتیلوں پر مقدم ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3057