Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3065

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلَّا غُلَامًا كَانَ أَعْتَقَهٗ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَهٗ أَحَدٌ؟» قَالُوا: لَا إِلَّا غُلَامٌ كَانَ أَعْتَقَهٗ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهٗ لَهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن ابن عباس: أن رجلا مات ولم يدع وارثا إلا غلاما كان أعتقه فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «هل له أحد؟» قالوا: لا إلا غلام كان أعتقه فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ميراثه له. رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ایک شخص مر گیا اور اس نے سوا اس غلام کے جسے آزاد کیا تھا اور کوئی وارث نہ چھوڑا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کا کوئی ہے لوگوں نے کہا نہیں سوا ایک غلام کے جسے اس نے آزاد کیا تھا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس کی میراث اس کے غلام کے لیے مخصوص کردی ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی بناء پرحضرت شریح،طاؤس وغیرہم نے فرمایا کہ جیسے آزادکردہ غلام کا وارث مولٰی ہوتا ہے اگر اس کا اوپر کا وارث نہ ہو ایسے ہی مولٰی کا وارث یہ غلام ہوگا،مگر جمہور علماء فرماتے ہیں کہ غلام مولٰی کا وارث نہیں اور یہ حدیث ایسی ہی ہے جیسے حضور انورصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے گاؤں کے آدمیوں کو لاوارث کی میراث عطا فرمائی تھی کیونکہ یہ مال بیت المال کا تھا اور اس کابھی بیت المال میں حق ہے، اس بناء پر اسے یہ مال دیا گیا۔(مرقاۃ،لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3065