Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3063

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ: «أَنْ وَرِّثْ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ:هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

وعن الضحاك بن سفيان: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إليه: «أن ورث امرأة أشيم الضبابي من دية زوجها» . رواه الترمذي وأبو داود وقال الترمذي:هذا حديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ضحاک ابن سفیان سے ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تحریر فرمایا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو ان کے خاوند کی دیت سے ورثہ دو ۲؎(ترمذی، ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ ضحاک ابن سفیان عامری کلابی ہیں،بڑے بہادر شجاع تھے،آپ اکیلے کو سو۱۰۰ پہلوانوں کے برابر سمجھا جاتا تھا،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی حفاظت کے لیے آپ سے قریب تلوار لیے کھڑے رہتے تھے،آپ کو حضورا نور نے اپنی قوم بنی کلاب کا والی بنایا تھا۔
۲
؎اشیم ضبابی صحابی تھے،ضباب ایک قلعہ کا نام ہے ادھر آپ کی نسبت ہے یہ خطاءً قتل کئے گئے تھے،قاتل پر دیت یعنی خون بہا واجب ہوا تھا،حضور انور نے حضرت ضحاک کو جو وہاں کے والی تھے یہ لکھا کہ ان کی دیت وارثوں میں تقسیم کرو،چونکہ زوجہ بھی وارث ہے اس لیے اسے بھی بقدر میراث دیت سے حصہ دو۔اس حدیث کی بناء پر جمہور علماء فرماتے ہیں کہ دیت کا مال پہلے تو مقتول کی ملک بنتا ہے،پھر مقتول کے دیگر مالوں کی طرح اس کے وارثوں کو بقدر حصہ ملتا ہے مگر حضرت علی کا قول یہ ہے کہ دیت سے اخیافی بھائی بہن، خاوند اور کسی عورت کو حصہ نہیں مل سکتا،غالبًا آپ کو یہ حدیث پہنچی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3063