Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3055

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ مَوْلًى لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ حَمِيمًا وَلَا وَلَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطُوا مِيرَاثَهٗ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهٖ » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ

وعن عائشة: أن مولى لرسول الله صلى الله عليه وسلم مات وترك شيئا ولم يدع حميما ولا ولدا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعطوا ميراثه رجلا من أهل قريته » . رواه أبو داود والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کا ایک غلام فوت ہوگیا اس نے کچھ مال چھوڑا ۱؎اور نہ کوئی قرابت دار چھوڑا نہ اولاد تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کی میراث اس کے کسی بستی والے کو دے دو ۲؎(ابوداؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس غلام کا نام معلوم نہ ہوسکا کہ کون صاحب تھے۔
۲
؎حضور انور نے اس مرحوم غلام کا مال خود نہ لیا حالانکہ ایسے موقعہ پر آزاد کرنے والا مولٰی میراث پاتا ہے کیونکہ حضور انور نبی ہیں اور حضرات انبیاء نہ کسی کے وارث ہوں نہ ان کا کوئی وارث ہو جیسا کہ دوسری احادیث میں صراحۃً ارشاد ہے۔اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ اس کا مال بیت المال کا ہے اور بیت المال تمام مسلمانوں کا سلطان اسلام کا حق ہوتا ہے کہ بیت المال کا مال جس مسلمان پر چاہے خرچ کرے۔اس حیثیت سے حکم دیتے ہیں کہ اس کے کسی بستی والے کو دے دو کہ وہ بھی تو مسلمان ہی ہوگا جس کا بیت المال میں حق ہے۔لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایسے لاوارث کا متروکہ مال اس کے کسی بستی والے کو دے دیا جائے بلکہ مطلب وہ ہی ہے جو عرض کیا گیا۔ (ازلمعات و مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3055