Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3064

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ: سَأَلَتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا السُّنَةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ يُسْلِمُ عَلٰى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهٖ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

وعن تميم الداري قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما السنة في الرجل من أهل الشرك يسلم على يدي رجل من المسلمين؟ فقال: هو أولى الناس بمحياه ومماته . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت تمیم داری سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اس مشرک آدمی کے متعلق شرعی طریقہ کیا ہے جو مسلمانوں میں سے کسی کے ہاتھ پر ایمان لائے ۲؎فرمایا وہ مسلمان اس مشرک کا زندگی اور موت میں والی ہے۳؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،پہلے عیسائی تھے، ۹ھ؁∞ میں اسلام لائے،بڑے عابد و زاہد تھے،رات کو ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرتے تھے کبھی تہجد کی نماز میں ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہتے حتی کہ سویرا ہوجاتا،محمد ابن منکدر فرماتے ہیں کہ ایک رات تمیم دارمی کی آنکھ نہ کھلی اورتہجد قضاء ہوگئی تو اس کے کفارہ میں سال بھر رات کو سوئے ہی نہیں،آپ نے نماز میں پہننے کے لیے ایک ہزار درہم کا جوڑا خریدا تھا،آپ نے ہی سب سے پہلے مسجد نبوی میں چراغ جلایا، آپ ہی سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دجال اور جساسہ کی روایت اپنے خطبہ میں بیان فرمائی،آپ مدینہ منورہ میں رہے،شہادت حضرت عثمان کے بعد شام چلے گئے،وہاں ہی وفات پائی،دار ابن ہانی کی اولاد میں ہیں اسی لیے آپ کو داری کہا جاتا ہے۔(اکمال،اشعہ،مرقات)
۲
؎آیا وہ مسلمان کرنے والا اس نو مسلم کا مولٰی ہوگا یا نہیں اور اس کے مال کی میراث پائے گا یا نہیں۔
۳
؎یعنی وارث ہے کہ اگر اس نو مسلم کا کوئی عزیز رشتہ دار نہ ہو تو اس کی میراث اسے ملے گی۔اس حدیث کی بنا پر حضرت عمر ابن عبد العزیز،سعید ابن مسیب وغیرہم مسلمان کرنے والے کو نو مسلم کا آخری وارث مانتے ہیں جیسے غلام کا وارث آزاد کرنے والا مولیٰ،مگر باقی تمام علماء اسے وارث نہیں مانتے،وہ فرماتے ہیں کہ حدیث اس وقت کی ہے جب اسلام اور نصرت و مدد کی بناء پر میراث ملتی تھی کہ مہاجر کا وارث انصاری ہوتا تھا اور انصاری کا مہاجر،پھر آیات میراث سے یہ وارثت منسوخ ہوگئی۔یا یہاںاَولٰیکے معنی وارث نہیں بلکہ مددگار ہیں کہ مسلمان کرنے والا اس نو مسلم کی زندگی میں ہر طرح مدد کرے اور بعد موت اس کی نماز اور دفن وغیرہ کا انتظام کرے، اس صورت میں یہ حدیث محکم ہے۔(لمعات و مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3064