Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3056

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهٖ فَقَالَ: الْتَمِسُوا لَهٗ وَارِثًا أَوْ ذَا رَحِمٍ فَلَمْ يَجِدُوا لَهٗ وَارِثًا وَلَا ذَا رَحِمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطُوا الْكُبْرَ مِنْ خُزَاعَةَ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ: قَالَ: انْظُرُوا أَكْبَرَ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ

وعن بريدة قال: مات رجل من خزاعة فأتي النبي صلى الله عليه وسلم بميراثه فقال: التمسوا له وارثا أو ذا رحم فلم يجدوا له وارثا ولا ذا رحم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعطوا الكبر من خزاعة . رواه أبو داود وفي رواية له: قال: انظروا أكبر رجل من خزاعة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ بنی خزاعہ ۱؎کا ایک شخص فوت ہوگیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں اس کی میراث لائی گئی تو فرمایا اس کا کوئی وارث یا ذی رحم ڈھونڈو تو نہ اس کا کوئی وارث پایا اور نہ ذی رحم ۲؎تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ میراث خزاعہ کے کسی قریبی کو دے دو ۳؎(ابو داؤد)اور اس کی ایک روایت میں یوں ہے فرمایا خزاعہ کے کسی بڑے آدمی کو دیکھو ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎خزاعہ ازد کا بڑا مشہور قبیلہ ہے۔
۲
؎یہاں وارث سے مراد ذی فرض یا عصبہ وارث ہے جیساکہ ذی رحم کے مقابلہ سے معلوم ہورہا ہے،اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ذی رحم کو میراث مل سکتی ہے۔
۳
؎شیخ نےاشعہ فرمایا کہکُبراکاف کے پیشبکے جزم سے،وہ شخص جو قوم کے مورث میں میت سے ملتا ہو ایسے شخص کو میراث سے کچھ نہیں ملتا،حضور انور کا یہ دلوانا بطور میراث نہ تھا بلکہ بیت المال کے مصرف ہونے کی حیثیت سے تھا کہ یہ مال ہے تو بیت المال کا اور چونکہ بیت المال کا مال مسلمانوں پر خرچ ہوتا ہے اور یہ شخص بھی مسلمان ہے لہذا ہم سلطان اسلام کی حیثیت سے حکم دیتے ہیں کہ اسے دے دو۔علامہ شامی نے فرمایا کہ دادا کے چچا اور اس چچا کی اولاد تک توارث ہوتا ہے جو اس سے اوپر میت سے ملے وہ وارث نہیں ورنہ سارے ہی انسان آدم علیہ السلام میں مل جاتے ہیں،سب ایک دوسرے کے وارث ہونا چاہئیں،انہی شامی نے یہ بھی فرمایا کہ اب فی زمانہ حتی الامکان بیت المال میں کسی کا ترکہ نہ بھیجو کہ وہ عمومًا ظالموں کے قبضہ میں ہوتا ہے بلکہ اب جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کے بستی والوں کو دے دو،مسلمانوں میں تقسیم کردو حتی کہ غیر روی وارثوں پر رد کردو مگر بیت المال سے مسلمانوں کا متروکہ مال بچاؤ۔
۴
؎یہاں بھیاکبر رجلمیں دو احتمال ہیں:یا اکبر سے مراد بڑے قرب والا یا گاؤں کا بڑا آدمی چودھری نمبردار یعنی اس بستی میں جو اس مرنے والے سے بڑی قرب کی قرابت رکھتاہو اسے دو یا جو بڑا ہواسے میراث دو کہ وہ اپنے انتظام سے لوگوں میں تقسیم کرے خود بھی لے دوسروں کو بھی دے کھائے بھی کھلائے بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3056