- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 3059
باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3059
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سُئِلَ أَبُو مُوسٰى عَنِ ابْنَةٍ وَبِنْتِ ابْنٍ وَأُخْتٍ فَقَالَ: لِلْبِنْتِ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسٰى، فَقَالَ: لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذَنْ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةً لِلثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ» فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسٰى فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هٰذَا الْحِبْرُ فِيكُمْ.رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن هزيل بن شرحبيل قال: سئل أبو موسى عن ابنة وبنت ابن وأخت فقال: للبنت النصف، وللأخت النصف، وائت ابن مسعود فسيتابعني فسئل ابن مسعود وأخبر بقول أبي موسى، فقال: لقد ضللت إذن وما أنا من المهتدين أقضي فيها بما قضى النبي صلى الله عليه وسلم: «للبنت النصف ولابنة الابن السدس تكملة للثلثين وما بقي فللأخت» فأتينا أبا موسى فأخبرناه بقول ابن مسعود فقال: لا تسألوني ما دام هذا الحبر فيكم.رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ہزیل ابن شرحبیل سے فرماتے ہیں کہ جناب ابو موسیٰ سے ایک بیٹی پوتی اور بہن کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا بیٹی کا آدھا اور بہن کا آدھا ہے ۱؎اور تم حضرت ابن مسعود کے پاس جاؤ وہ بھی ہماری ہی مطابقت کریں گے۲؎چنانچہ حضرت ابن مسعود سے مسئلہ پوچھا گیا اور حضرت موسیٰ کی بات کی خبر دی گئی وہ بولے تب تو بہک جاؤں گا اور راہ پانے والوں سے نہ ہوں گا ۳؎میں تو اس میں وہ فیصلہ کروں گاجو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کیا تھا،بیٹی کا آدھا ہے اور پوتی کا چھٹا حصہ دو تہائی پوری کرنے والے کو اور جو باقی بچے وہ بہن کا ۴؎پھر ہم ابو موسیٰ کے پاس آئے تو ہم نے انہیں حضرت ابن مسعود کے فیصلہ کی خبر دی تو آپ بولے جب تک یہ علّامہ تم میں رہے مجھ سے نہ پوچھو ۵؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎سوال یہ تھا کہ ایک شخص فوت ہوا اس نے ایک بیٹی،ایک پوتی،ایک بہن چھوڑی تو کسے کتنا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا بیٹی کو آدھا،بہن کو آدھا اور پوتی محروم ہے،آپ نے ان دو آیتوں پر نظر فرمائی کہ بیٹی کے متعلق ارشاد ہوا"وَ اِنۡ كَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النِّصْفُ"اگر بیٹی اکیلی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے اور بہن کے متعلق ارشاد ہوا ہے"اِنِ امْرُؤٌا ھَلَكَ لَیۡسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٗۤ اُخْتٌ فَلَھَا نِصْفُ مَا تَرَكَ"کہ اگر کوئی مرگیا اور اس کے اولاد نہیں ہے بہن ہے تو بہن کو آدھا ملے گا۔آپ نےولدسے مراد صلبی اولاد لی،حالانکہولدمیں پوتی بھی داخل ہے اگر بیٹا بیٹی،پوتا پوتی نہ ہو تو بہن کو آدھا ملتا ہے،یہ ہوئی اجتہادی غلطی یا انہوں نے خیال کیا کہ وہاں آیت میںولدسے مراد مذکر اولاد ہے۔
۲؎یعنی میرے بتائے ہوئے مسئلہ کی تصدیق حضرت ابن مسعود سے بھی کرالوان شاءاللّٰهوہ بھی یہ ہی فتویٰ دیں گے،یہ حدیث فتویٰ کی تصدیق کرانے کی اصل ہے۔
۳؎یعنی ابو موسیٰ رضی اللّٰہ عنہ نے مسئلہ غلط بتایا وہ تو اجتہادی غلطی کی وجہ سے معاف کردیئے جائیں گے،مجھے اصل مسئلہ معلوم ہے اگر میں جانتے ہوئے غلط مسئلہ میں ان کی تائید کردوں تو گمراہ ہوجاؤں گا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر تو حضرت ابو موسیٰ اشعری گمراہ ہوگئے ہوں گے کہ انہوں نے مسئلہ غلط بتایا کیونکہ وہ خطاء اجتہادی کی بنا پر مسئلہ غلط بتاگئے،خطاء اجتہادی پر پکڑ نہیں جیسا کہ قرآن کریم نے حضرت داؤد علیہ السلام کی ایک غلطی اجتہادی کا ذکر تو فرمایا مگر عتاب نہ فرمایا۔
۴؎خلاصہ جواب یہ ہے کہ ازروئے قرآن کریم بیٹوں کا حصہ دو تہائی ہے،یہاں لڑکی نے آدھا لے لیا کہ اس کی قرابت میت سے بمقابلہ پوتی کے قوی ہے،اب چھٹا حصہ بچا کیونکہ آدھا چھٹے سے مل کر دو تہائی ہوجاتا ہے وہ پوتی کو دے دیا،یہ دونوں ذی فرض تھیں،بہن عصبہ ہے اس کے لیے تہائی بچا ہے وہ اسے دے دو۔مال کے چھ حصے کرکے تین بیٹی کو دو،ایک پوتی کو،باقی دو بچے وہ عصبۃً بہن کو دے دو۔حضور فرماتے ہیں"اجعلو الاخوات مع البنات عصبۃً" بیٹیوں کے ساتھ بہنوں کو عصبہ بناؤ،یہ ہی جمہور علماء کا قول ہے مگر حضرت ابن عباس بیٹی کی موجودگی میں بہن کو محروم کرتے ہیں،وہ فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی نے مذکورہ آیت میں بہن کی میراث کے لیےولدنہ ہونے کی قید لگائی،ولدسے مراد مطلقًا اولاد ہے بیٹا ہو یا بیٹی،حالانکہ وہاںولدسے مراد صرف بیٹا ہے اس لیے حضرت عمر سے آپ کا مشہور مناظرہ ہوا اور حضرت عمر نے یہ ہی جواب دیا۔(مرقات)
۵؎یعنی آئندہ جب تک حضرت عبداللّٰهابن مسعود زندہ ہیں مجھ سے مسئلہ نہ پوچھو،وہ مجھ سے بڑے عالم ہیں ان سے ہی پوچھا کرو۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ عالم کو چاہیے کہ اپنی غلطی معلوم ہونے پر ضد نہ کرے فورًا رجوع کرلے،رجوع میں اپنی توہین نہ جانے۔دوسرے یہ کہ بڑے عالم کے ہوتے ماتحتوں کی تقلید نہ کرے،یہ حدیث تقلید شخصی کی اصل ہے کہ ایک عالم مجتہد کا ہوکر رہے ہر جگہ نہ بھٹکے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3059