Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3059

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سُئِلَ أَبُو مُوسٰى عَنِ ابْنَةٍ وَبِنْتِ ابْنٍ وَأُخْتٍ فَقَالَ: لِلْبِنْتِ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسٰى، فَقَالَ: لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذَنْ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةً لِلثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ» فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسٰى فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هٰذَا الْحِبْرُ فِيكُمْ.رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن هزيل بن شرحبيل قال: سئل أبو موسى عن ابنة وبنت ابن وأخت فقال: للبنت النصف، وللأخت النصف، وائت ابن مسعود فسيتابعني فسئل ابن مسعود وأخبر بقول أبي موسى، فقال: لقد ضللت إذن وما أنا من المهتدين أقضي فيها بما قضى النبي صلى الله عليه وسلم: «للبنت النصف ولابنة الابن السدس تكملة للثلثين وما بقي فللأخت» فأتينا أبا موسى فأخبرناه بقول ابن مسعود فقال: لا تسألوني ما دام هذا الحبر فيكم.رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ہزیل ابن شرحبیل سے فرماتے ہیں کہ جناب ابو موسیٰ سے ایک بیٹی پوتی اور بہن کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا بیٹی کا آدھا اور بہن کا آدھا ہے ۱؎اور تم حضرت ابن مسعود کے پاس جاؤ وہ بھی ہماری ہی مطابقت کریں گے۲؎چنانچہ حضرت ابن مسعود سے مسئلہ پوچھا گیا اور حضرت موسیٰ کی بات کی خبر دی گئی وہ بولے تب تو بہک جاؤں گا اور راہ پانے والوں سے نہ ہوں گا ۳؎میں تو اس میں وہ فیصلہ کروں گاجو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کیا تھا،بیٹی کا آدھا ہے اور پوتی کا چھٹا حصہ دو تہائی پوری کرنے والے کو اور جو باقی بچے وہ بہن کا ۴؎پھر ہم ابو موسیٰ کے پاس آئے تو ہم نے انہیں حضرت ابن مسعود کے فیصلہ کی خبر دی تو آپ بولے جب تک یہ علّامہ تم میں رہے مجھ سے نہ پوچھو ۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سوال یہ تھا کہ ایک شخص فوت ہوا اس نے ایک بیٹی،ایک پوتی،ایک بہن چھوڑی تو کسے کتنا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا بیٹی کو آدھا،بہن کو آدھا اور پوتی محروم ہے،آپ نے ان دو آیتوں پر نظر فرمائی کہ بیٹی کے متعلق ارشاد ہوا"وَ اِنۡ كَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النِّصْفُ"اگر بیٹی اکیلی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے اور بہن کے متعلق ارشاد ہوا ہے"اِنِ امْرُؤٌا ھَلَكَ لَیۡسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٗۤ اُخْتٌ فَلَھَا نِصْفُ مَا تَرَكَ"کہ اگر کوئی مرگیا اور اس کے اولاد نہیں ہے بہن ہے تو بہن کو آدھا ملے گا۔آپ نےولدسے مراد صلبی اولاد لی،حالانکہولدمیں پوتی بھی داخل ہے اگر بیٹا بیٹی،پوتا پوتی نہ ہو تو بہن کو آدھا ملتا ہے،یہ ہوئی اجتہادی غلطی یا انہوں نے خیال کیا کہ وہاں آیت میںولدسے مراد مذکر اولاد ہے۔
۲
؎یعنی میرے بتائے ہوئے مسئلہ کی تصدیق حضرت ابن مسعود سے بھی کرالوان شاءاللّٰهوہ بھی یہ ہی فتویٰ دیں گے،یہ حدیث فتویٰ کی تصدیق کرانے کی اصل ہے۔
۳
؎یعنی ابو موسیٰ رضی اللّٰہ عنہ نے مسئلہ غلط بتایا وہ تو اجتہادی غلطی کی وجہ سے معاف کردیئے جائیں گے،مجھے اصل مسئلہ معلوم ہے اگر میں جانتے ہوئے غلط مسئلہ میں ان کی تائید کردوں تو گمراہ ہوجاؤں گا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر تو حضرت ابو موسیٰ اشعری گمراہ ہوگئے ہوں گے کہ انہوں نے مسئلہ غلط بتایا کیونکہ وہ خطاء اجتہادی کی بنا پر مسئلہ غلط بتاگئے،خطاء اجتہادی پر پکڑ نہیں جیسا کہ قرآن کریم نے حضرت داؤد علیہ السلام کی ایک غلطی اجتہادی کا ذکر تو فرمایا مگر عتاب نہ فرمایا۔
۴
؎خلاصہ جواب یہ ہے کہ ازروئے قرآن کریم بیٹوں کا حصہ دو تہائی ہے،یہاں لڑکی نے آدھا لے لیا کہ اس کی قرابت میت سے بمقابلہ پوتی کے قوی ہے،اب چھٹا حصہ بچا کیونکہ آدھا چھٹے سے مل کر دو تہائی ہوجاتا ہے وہ پوتی کو دے دیا،یہ دونوں ذی فرض تھیں،بہن عصبہ ہے اس کے لیے تہائی بچا ہے وہ اسے دے دو۔مال کے چھ حصے کرکے تین بیٹی کو دو،ایک پوتی کو،باقی دو بچے وہ عصبۃً بہن کو دے دو۔حضور فرماتے ہیں"اجعلو الاخوات مع البنات عصبۃً" بیٹیوں کے ساتھ بہنوں کو عصبہ بناؤ،یہ ہی جمہور علماء کا قول ہے مگر حضرت ابن عباس بیٹی کی موجودگی میں بہن کو محروم کرتے ہیں،وہ فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی نے مذکورہ آیت میں بہن کی میراث کے لیےولدنہ ہونے کی قید لگائی،ولدسے مراد مطلقًا اولاد ہے بیٹا ہو یا بیٹی،حالانکہ وہاںولدسے مراد صرف بیٹا ہے اس لیے حضرت عمر سے آپ کا مشہور مناظرہ ہوا اور حضرت عمر نے یہ ہی جواب دیا۔(مرقات)
۵
؎یعنی آئندہ جب تک حضرت عبداللّٰهابن مسعود زندہ ہیں مجھ سے مسئلہ نہ پوچھو،وہ مجھ سے بڑے عالم ہیں ان سے ہی پوچھا کرو۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ عالم کو چاہیے کہ اپنی غلطی معلوم ہونے پر ضد نہ کرے فورًا رجوع کرلے،رجوع میں اپنی توہین نہ جانے۔دوسرے یہ کہ بڑے عالم کے ہوتے ماتحتوں کی تقلید نہ کرے،یہ حدیث تقلید شخصی کی اصل ہے کہ ایک عالم مجتہد کا ہوکر رہے ہر جگہ نہ بھٹکے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3059