Main Icon

باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5974

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَن عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَخِيْ جُوَيْرِيَةِ قَالَ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهٖ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً وَلَا شَيْئًا إِلَّا بَغْلَتَهُ البَيْضَاءَ وَسِلَاحَهٗ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن عمرو بن الحارث أخي جويرية قال: ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم عند موته دينارا ولا درهما ولا عبدا ولا أمة ولا شيئا إلا بغلته البيضاء وسلاحه وأرضا جعلها صدقة. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن حارث سے جو جناب جویریہ کے بھائی ہیں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت نہ اشرفی چھوڑی نہ درہم نہ غلام نہ لونڈی ۱؎نہ کوئی اور چیز سواء اپنے سفید خچر کے ۲؎اور اپنے ہتھیار ۳؎اور زمین کے جنہیں وقف فرمایا ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور کے جو لونڈی غلام تھے یا تو حضور کی حیات شریف میں وفات پا گئے تھے یا حضور انور نے انہیں آزاد فرمادیا تھا،آپ نے کوئی غلام یا لونڈی نہ چھوڑی۔
۲
؎اس خچر کا نام دلدل تھا ،یہ مقوقش شاہ اسکندریہ نے حضور انور کی خدمت میں تحفہ پیش کیا تھا۔(اشعہ)
۳
؎ان ہتھیاروں میں ایک زرہ تھی جو ایک یہودی کے پاس گروی تھی،ایک نیزہ تھا، ایک خود،ایک تلوار ذوالفقار تھی،گھر کے کپڑے کمبل شریف وغیرہ کا یہاں ذکر نہیں کہ وہ معمولی چیز ہیں۔(مرقات)
۴
؎جعلہاکا مرجع مذکورہ تینوں چیزیں ہیں یعنی یہ سب چیزیں حضور نے وقف فرمادیں تھیں اپنے اس فرمان عالی سے کہما ترکناہ صدقۃ۔حضور انور کی ملک چار چیزیں تھیں: فدک کا نصف حصہ ، وادی قریٰ کا تہائی، خیبر کا پانچواں حصہ اور کچھ بنی نضیرکی زمیں کا یہ تمام چیزیں وقف ہوگئیں تھیں ۔بعد وفات حضرت فاطمہ نے اور حضور انور کی ازواج مطہرات نے حضرت صدیق اکبر سے میراث مانگی،آپ نے سب کو انکار فرمادیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان زمینوں کی تولیت حضرت علی و عباس کو دی، جھگڑا ہوجانے پر ان دونوں نے تقسیم کی درخواست کی جو نامنظور ہوئی،تمام خلفاء کے زمانوں میں یہ وقف ہی رہیں،مروان ابن حکم نے ان پر قبضہ کرلیا۔(از اشعہ و مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5974