Main Icon

باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5978

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ لَيَأْتِيَنَّ عَلٰى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ وَلَا يَرَانِي ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهٖ وَمَالِهِ مَعَهُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «والذي نفس محمد بيده ليأتين على أحدكم يوم ولا يراني ثم لأن يراني أحب إليه من أهله وماله معهم» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ تم میں سے کسی پر وہ دن آوے گا کہ وہ مجھے نہ دیکھے ۱؎تو اسے میرا دیکھنا زیادہ پیارا ہوگا اپنے گھر والوں سے جب کہ اس کا مال بھی ان کے ساتھ ہو ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اے میرے صحابہ اس وقت کو غنیمت جانو کہ تم کو میرا دیدار میسر ہے،عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم میرے دیدار کو ترس جاؤ گے اور کہا کرو گے؎قافلہ سالار سفر کر گیا قافلہ کو زیر و زبر کر گیا
۲
؎یعنی مسلمان تمنا کریں گے کہ کوئی ہمارے گھر والوں اہل و عیال کو بمع مال ہم سے لے لے اور ہم کو ایک نظر حضور کا جمال دکھادے بلکہ خواب میں ہی دیدار کرادے،دیکھ لو آج مدینہ کی گلیوں کے لیے ہم لوگ ترستے ہیں۔میں نے مدینہ منورہ کے ایک جلسے میں اہلِ مدینہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مدینہ والوں تمہیں کیا خبر کہ مدینہ کیا ہے یہ تو ہم مہجوروں سے پوچھو سات آٹھ سال تک قرعہ میں نام نہیں نکلتا،جب خدا خدا کرکے نام نکلتا ہے تو ہم لوگوں کی عید ہوجاتی ہے پھر ہزاروں روپیہ خرچ کرکے مدینہ منورہ پہنچتے ہیں،صرف آٹھ دس دن کے بعد نکلنے کا حکم مل جاتا ہے تو تمہارا منہ تکتے ہوئے چلے جاتے ہیں،اس پر لوگ چیخیں مار کر رونے لگے۔ہمارا قصیدہ وداعیہ پڑھو؎دور سے آئے تھے پردیسی غلام عرض کرنے کو غلامانہ سلام
آستانہ سے وداع ہوتے ہیں اب یہ تو فرماؤ کہ بلواؤ گے کب
چشم رحمت سے نہ تم کریو جدا رکھیو اپنے سایہ میں ہم کو سدا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5978