Main Icon

باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5975

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِيْ دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يقتسم ورثتي دينارا ما تركت بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة» . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے وارثین اشرفی تقسیم نہ کریں ہم جو چھوڑیں ہماری بیویوں کے خرچہ ۱؎اور ہمارے نوکروں کی تنخواہ کے بعد وہ وقف ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حق یہ ہے کہ حضور انور کی وفات سے آپ کا نکاح ٹوٹتا نہیں اس لیے کہ حضور انور زندہ ہیں لہذا حضور پر اپنی ازواج کا خرچہ بعد وفات بھی واجب ہے جو آپ کا خلیفہ ادا کرے گا۔بعض نے فرمایا کہ حضور کی ازواج ہمیشہ گویا عدت میں رہتی ہیں اور عدت کا خرچہ خاوند پر ہوتا ہے لہذا ان کا خرچہ حضور پر لازم ہے۔عامل سے مراد یا تو خلیفہ ہے یا حضور کی زمین میں کام کاج کرنے والے مگر حق یہ ہے کہ جو مسلمانوں کا کام کرے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نوکر ہے،اس کی تنخواہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جاری ہوتی ہے۔(مرقات)لہذا ہم سب لوگ علماء مشائخ،سلاطین،وزراء حکام سب حضور کے نوکر چاکر ہیں،انہیں تنخواہ حضور کے ہاں سے ملتی ہے کسی کو تو کسی نوکری وغیرہ کے ذریعہ سے اور کسی کو محض توکل کے وسیلہ سے۔فقیر کی آزمائش تو یہ ہے کہ جو شخص ان کی نوکری کرے اسے گھر بیٹھے تنخواہ ملتی ہے،جس جانور کو کھونٹے سے باندھ دیا جاوے اس کی ساری ضرورتیں چارہ،پانی دوا وغیرہ کھونٹے پر ہی پہنچایا جاتا ہے۔خدا کرے کہ ان کی نوکری مل جاوے وہ نوکر رکھ لیں یعنی ان دو خرچوں کے بعد جو باقی بچے وہ عام مسلمانوں پر صدقہ ہے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ حضور عمر ابن عبدالعزیز نے مروان کے تمام مظالم ختم کیے،اس کے قبضہ میں حضور کی زمینیں واگذار کرکے وقف کیں۔(مرقات)
۲
؎یعنی ہماری وفات کے بعد ہماری میراث تقسیم نہیں ہوتی۔سارے انبیاءکرام کا یہ ہی حکم ہے،قرآن کریم میں جو ہے "وَوَرِثَ سُلَیۡمٰنُ"وہاں علم کی میراث مراد ہے نہ کہ مال کی اسی لیے آگے ہے"وَقَالَ یٰۤاَیُّھَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ"۔نیز اگر مالی میراث مراد ہوتی تو صرف حضرت سلیمان کا ذکر نہ ہوتا بلکہ حضرت داؤد کے بارہ بیٹے ۹۹ بیویوں وغیرہم سب کا ذکر ہوتا۔ خیال رہے کہ عمومًا وراثت مال نسب سے ملتی ہے وراثت کمال نسبت سے اور وراثت احوال فنا سے۔حضور کا مال نہیں بٹتا حضور کے کمال حضور کے احوال تقسیم ہوتے ہیں،خدا تعالٰی ہم کو حضور سے نسبت دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5975